اسوہء انسانِ کامل — Page 280
280 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اسوہ انسان کامل میں تقسیم کر دینا۔انہوں نے کہا کہ مقامی طور پر تقسیم کے بعد ہم بچا ہوا مال لے کر آئے ہیں۔رسول اللہ اس قبیلہ کی آمد پر بہت خوش تھے کہ کسی طمع سے نہیں دلی شوق سے مالی قربانی کرتے ہوئے اسلام قبول کر رہے ہیں۔آپ نے انہیں بڑی محبت سے اسلام کی تعلیم دی۔جب انہوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا جانے کی کیا جلدی ہے کچھ دن اور قیام کریں۔انہوں نے عرض کیا کہ واپس جا کر ہم اپنی قوم کو بھی اسلام کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔حضور نے اس وفد کو بھی انعام واکرام کے ساتھ رخصت کیا۔( الحلبیہ (81 ۷۔وفد سعد بن ہزیم بنی سعد ہزیم کا وفد نعمان کی سرکردگی میں آیا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم آئے تو حضور ایک جنازہ پڑھا رہے تھے جس میں ہم شامل نہیں ہوئے۔آپ نے ہمارے تعارف کے بعد پوچھا تم مسلمان ہو؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا تو فرمایا کہ پھر تم اپنے بھائی کی نماز جنازہ میں کیوں شامل نہ ہوئے ؟ انہوں نے کہا کہ بیعت سے پہلے ہم نے اسے جائز نہیں سمجھا۔آپ نے فرمایا جس وقت تم نے دل سے اسلام قبول کر لیا اس وقت سے مسلمان ہو گئے۔اس کے بعد رسول اللہ کے ہاتھ پر بھی بیعت کی سعادت حاصل کی۔اس وفد کے لوگ بیان کرتے تھے جب ہم اپنے خیموں میں آئے تو جس لڑکے کو وہاں بغرض حفاظت چھوڑ کر آئے تھے اسے حضور نے بلوا بھیجا۔ہم نے عرض کیا کہ یہ ہم میں سے کم عمر اور ہمارا خادم ہے۔آپ نے فرمایا قوم کا سردار بھی ان کا خادم ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے برکت دے۔اس طرح اس خادم میں صلاحیت دیکھ کر اس کی عزت افزائی کی۔نعمان کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ نے اس بچے کو ہم پر امیر مقرر کیا اور وہ ہمیں نمازیں پڑھاتا تھا۔(الحلبیہ (82 وفد بلی قضاعہ قبیلہ کا یہ وفد حضور کی خدمت میں آیا اور اسلام کا اقرار کیا۔ان کے بوڑھے سردار نے پوچھا کہ مجھے مہمان نوازی سے شغف ہے کیا اس کا اجر ہو گا۔آپ نے فرمایا ہر نیکی کا اجر ہے خواہ امیر سے کی جائے یا غریب سے۔مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے۔اس وفد نے تین روز قیام کیا۔اسلام کی تعلیمات سیکھیں اور واپس اپنے قبائل میں جا کر پیغام پہنچانے لگے۔(الحلبیہ (83 ۹۔وفد بنی عذرہ کی آمد قبیلہ بنی عذرہ کا وفد یمن سے آیا۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے تھالی رشتہ دار ہوتے ہیں کیونکہ ہم قصی بن کلاب کے بھائی کی اولاد ہیں۔ہمارا آپ سے رحمی رشتہ ہے۔رسول اللہ نے انہیں بہت مسرت سے خوش آمدید کہا اور فرمایا کہ پریشانی کی بات نہیں تم لوگ اپنے گھر کی طرح یہاں رہو۔آنحضور نے انہیں اسلام کی تعلیم دی۔کہانت سے روکا اور فرمایا کہ کا ھنوں سے غیب کی باتیں وغیرہ مت پوچھا کرو۔اسی طرح انہیں بتوں پر قربانیاں کرنے سے بھی منع فرمایا اور وہ