اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 236 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 236

اسوہ انسان کامل 236 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول کھجور لینے کی حامی بھر لی۔پھر وہ کھجور میں اکٹھی کر کے نبی کریم کی خدمت میں جا کر پیش کر دیں۔آپ نے فرمایا کعب! یہ کہاں سے لائے؟ میں نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔نبی کریم نے فرمایا اے کعب کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان مجھے آپ سے عشق ہے۔نبی کریم نے فرمایا جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے۔فقر وفاقہ اس کی طرف بہت تیزی سے آتا ہے اور تجھے بھی آزمایا جائے گا۔اس لئے اس کے مقابلہ کے لئے تیاری کرلو۔اس کے بعد ایک دفعہ کعب بیمار ہو گئے۔رسول کریم نے اپنے اس عاشق کا حال پوچھا کہ وہ کہاں ہیں نظر نہیں آئے۔ان کی بیماری کا پتہ چلا تو بنفس نفیس احوال پرسی کے لئے تشریف لے آئے اور کعب کو تسلی اور بشارت دی۔(حیثمی )45 حضرت سعد بن خیثمہ بیان کرتے ہیں کہ میں تبوک میں رسول اللہ سے پیچھے رہ گیا تھا۔اپنے کھجور کے باغ میں گیا تو دیکھا کہ چھپر میں چھڑ کا ؤکر کے بیٹھنے کی ٹھنڈی جگہ بنائی گئی ہے۔میری بیوی موجود تھی۔میں نے کہا یہ انصاف نہیں۔خدا کا رسول سخت گرمی کے موسم میں ہو اور میں سائے اور پھلوں میں ہوں۔میں نے اسی وقت سواری لی اور کچھ کھجور میں بطور زادِ راہ لے کر چل پڑا۔میری بیوی کہنے لگی کہاں جاتے ہو؟ میں نے کہا رسول اللہ کے ساتھ شریک جہاد ہونے کے لئے۔جب میں لشکر کے قریب پہنچا تو رسول اللہ نے دور سے غبار اٹھتی دیکھ کر فرمایا خدا کرے یہ ابوخیثمہ ہو۔میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ اللہ میں تو پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ہلاک ہونے کو تھا اور پھر اپنا قصہ کہہ سنایا۔رسول اللہ نے میرے لئے دعائے خیر کی۔(بیٹمی )46 صحابیات کا عشق رسول عشق رسول تو ایمان کی علامت ہے۔اس لئے صحابیات رسول سبھی اس میدان میں مردوں سے پیچھے نہ تھیں۔وہ 47 رسول اللہ کے حالات اور ضروریات پر نظر رکھتیں اور ان کو پورا کر کے ثواب اور تسکین دل حاصل کرنا چاہتیں۔رسول اللہ کی ازواج میں حضرت عائشہؓ سے بڑھ کر کون رسول اللہ کا عاشق ہوگا۔مسروق بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت عائشہ مجھ سے باتیں کرتے کرتے رو پڑیں میں نے رونے کا سبب پوچھا تو کہنے لگیں میں کبھی بھی سیر ہو کر کھانا نہیں کھاتی مگر چاہتی ہوں کہ ایک دفعہ رسول اللہ کی تنگی اورسختی کا زمانہ یا دکر کے رولوں۔( ابن سعد ) 7 حضرت زید مدنی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اے ام المؤمنین سلام ہو۔انہوں نے وعلیکم السلام کہہ کر رونا شروع کر دیا ہم نے کہا ام المؤمنین! رونے کا سبب کیا ہے؟ حضرت عائشہ فرمانے لگیں مجھے پتہ چلا ہے کہ تم لوگ قسم قسم کے کھانے کھاتے ہو۔یہاں تک کہ پھر اسے ہضم کرنے کے لئے دوا تلاش کرتے پھرتے ہو۔مجھے تمہارے نبی کے فاقہ کا زمانہ یاد آ گیا اس لئے روتی ہوں۔آپ دنیا سے رخصت ہوئے تو حال یہ تھا کہ کسی ایک دن میں آپ نے دو کھانوں سے پیٹ نہیں بھرا۔جب پیٹ بھر کر کھجور کھالی تو روٹی سیر ہو کر نہیں