اسوہء انسانِ کامل — Page 205
اسوہ انسان کامل ہوں گے۔(طبرانی)5 205 رسول کریم کی ہمدردی خلق عبد اللہ بن عباس کی روایت میں ہے کہ فرائض کے بعد سب سے پسندیدہ عمل ایک مسلمان بھائی کو خوش کرنا ہے۔اسی طرح حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ”جو شخص مسلمان بھائی سے اس لئے ملتا ہے کہ وہ اسے خوش کرے تو اللہ قیامت کے دن اسے خوش کرے گا۔‘ (مندری) 6 آپ ہمیشہ کمزوروں اور حاجت مندوں کے کام آتے اور فرماتے تھے کہ ” جب بندہ اپنے کسی بھائی کی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے اور جو کسی مسلمان بھائی کی کوئی تکلیف دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے روز کی تکلیف دور کرے گا۔اور جو شخص کسی مسلمان کی ستر پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کی ستر پوشی فرمائے گا۔( بخاری )7 رسول کریم آغاز سے ہی مخلوق خدا سے محبت رکھتے اور لوگوں کی ضرورتیں پوری کر کے خوشی محسوس کرتے تھے۔مکی دور میں بعثت سے قبل آپ معاہدہ حلف الفضول میں شریک ہوئے تھے جس کا بنیادی مقصد مظلوموں کی امداد تھا۔آپ فرمایا کہ اس معاہدہ میں شرکت کی خوشی مجھے اونٹوں کی دولت سے بڑھ کر ہے اور آج بھی مجھے اس معاہدہ کا واسطہ دیکر مدد کے لئے بلایا جائے تو میں ضرور مدد کروں گا۔( ابن ھشام ) 8 حضرت خدیجہ نے پہلی وحی پر رسول کریم کے اخلاق پر جو گواہی دی وہ آپ کی ہمدردی خلق سے عبارت ہے۔انہوں نے عرض کیا تھا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَحْمِلُ الْكَلَّ وَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَ تَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ( بخاری ) خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا آپ تو رشتہ داروں کے حق ادا کرتے ہیں، غریبوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں ، دنیا سے ناپید اخلاق اور نیکیاں قائم کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے اور حقیقی مصائب میں مدد کرتے ہیں۔ابو جہل کے خلاف مظلوم کی امداد رسول کریم جابر دشمن کے مقابل پر بھی مظلوم کی مدد کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔ایک اجنبی الا راشی سے ابو جہل نے اونٹ خریدا اور قیمت کی ادائیگی میں پس و پیش کرنے لگا۔اراشی قریش کے مجمع میں آکر مدد کا طالب ہوا اور کہا کہ میں اجنبی مسافر ہوں۔کوئی ہے جو ابو جہل سے مجھے میرا حق دلائے ؟ وہ میرے مال پر قابض ہے۔سردارانِ قریش نے ازراہ تمسخر رسول کریم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ شخص تمہیں ابو جہل سے حق دلا سکتا ہے۔اراشی رسول اللہ کے پاس جا کر دعائیں دیتے ہوئے کہنے لگا کہ آپ ابو جہل کے خلاف میری مدد کریں۔رسول کریم اس کے ساتھ چل پڑے۔سردارانِ قریش نے اپنا ایک آدمی پیچھے بھجوایا تا کہ دیکھے ابو جہل کیا جواب دیتا ہے۔رسول کریم نے اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔اس نے پوچھا کون ہے؟ آپ نے فرمایا میں محمد ہوں۔باہر آؤ۔آپ کو دیکھ کر ابو جہل کا رنگ فق ہو گیا آپ