اسوہء انسانِ کامل — Page 121
121 رسول کریم کی قرآن کریم سے گہری محبت اور عشق اسوہ انسان کامل ذکر بلند کرنے والیوں کی۔یقینا تمہارا معبود ایک ہی ہے۔آسمانوں کا بھی رب ہے اور زمین کا بھی اور اس کا بھی جوان دونوں کے درمیان ہے اور تمام مشرقوں کا رب ہے۔یہاں تک تلاوت کر کے حضور یہ رک گئے کیونکہ آواز بھرا کر گلو گیر ہوگئی تھی۔آپ ساکت و صامت اور بے حس و حرکت بیٹھے تھے۔آنکھوں سے آنسو رواں تھے جو ٹپ ٹپ داڑھی پر گر رہے تھے۔کندہ قبیلہ کے لوگ یہ عجیب ماجرا دیکھ کر حیران ہورہے تھے۔کہنے لگے کیا آپ اپنے بھیجنے والے کے خوف سے روتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں اسی کا خوف مجھے رُلاتا ہے جس نے مجھے صراط مستقیم پر مبعوث فرمایا ہے۔مجھے تلوار کی دھار کی طرح سیدھا اُس راہ پر چلنا ہے اگر ذرا بھی میں نے اس سے انحراف کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا۔(حلبیہ (24 نمازوں میں مسنون تلاوت قرآن کریم تو سارے کا سارا ہی بہت پیارا ہے۔مگر رسول کریم سے مختلف اوقات میں حسب حال مضمون قرآنی کی مناسبت سے نمازوں میں بعض خاص سورتوں کی تلاوت ثابت ہے۔آپ ظہر و عصر کی نمازوں میں سورہ فاتحہ کے بعد بعض سورتوں کی خاموش تلاوت فرماتے تھے اور مغرب وعشاء و فجر میں فاتحہ کے ساتھ کسی سورت یا حصہ قرآن کی بآواز بلند تلاوت ہوتی تھی۔نماز ظہر کی پہلی دور کعتیں آخری دورکعتوں سے تلاوت کے لحاظ سے دوگنی لمبی ہوتی تھیں۔پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں حضرت ابو سعید خدری کا اندازہ قریباً تمیں آیات کے برابر تلاوت کا ہے۔حضرت جابر بن سمرہ کے مطابق ظہر وعصر میں سورۃ اللیل کی تلاوت ہوتی تھی۔(جس کی 21 چھوٹی آیات ہیں دوسری روایت میں سورۂ اعلیٰ کی تلاوت کا بھی ذکر ہے ) اور فجر کی نماز میں نسبتاً اس سے لمبی تلاوت ہوتی ہے۔(مسلم) 25 حضرت جابر کے نزدیک نبی کریم فجر میں سورۃ ق کی تلاوت کرتے تھے بعد میں یہ تلاوت اس سے بھی نسبتا مختصر ہوگئی۔حضرت ابو برزہ اسلمی کا اندازہ ہے کہ فجر کی ہر رکعت میں 60 سے 100 آیات کی تلاوت ہوتی تھی۔حضرت عمرو بن حریث کا بیان ہے کہ انہوں نے فجر میں رسول کریم کو سورہ تکویر کی تلاوت کرتے سنا۔(مسلم )26 حضرت ابوھر میرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں الم السجدہ اور سورۃ الدھر کی تلاوت فرماتے تھے۔( بخاری ) 27 حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ان کی والدہ ام الفضل نے انہیں مغرب کی نماز میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا تو کہنے لگیں میرے بیٹے ! تم نے نماز مغرب میں یہ سورت تلاوت کر کے مجھے وہ زمانہ یاد کر وا دیا ، جب میں نے نبی کریم ﷺ کو نماز مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔(احمد) 28 حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم کو مغرب کی نماز میں سورہ طور پڑھتے سنا۔اور ایسی