اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 113 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 113

113 ذکر الہی اور حمد وشکر میں اسوہ رسول اسوہ انسان کامل قیدی بنایا تو فرمایا اگر آج ان کا سردار مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور مجھے ان قیدیوں کی رہائی کی سفارش کرتا تو میں اس کی خاطر ان سب کو چھوڑ دیتا‘ ( بخاری )43 رسول اللہ کے چچا ابو طالب نے زندگی بھر آپ سے وفا کی، ہمیشہ آپ کا ساتھ دیا اور آپ کی خاطر شعب ابی طالب میں محصور رہے۔وہ بیمار ہوئے تو آپ ان کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے۔انہوں نے دعا کی درخواست کی کہ اپنے رب سے دعا کرو۔اللہ تعالیٰ مجھے صحت دے اور پھر آپ کی اعجازی دعا کے نشان سے وہ صحت یاب ہوئے۔(حاکم 44) اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابو طالب آپ کو دل سے سچ مانتے تھے مگر کھل کر اس کا اظہار نہ کرتے تھے۔آخری بیماری میں بھی حضور انہیں اعلانیہ اظہار اسلام کی تحریک کرتے رہے مگر وہ ایسا نہ کر سکے۔اس کے باوجود نبی کریم نے آخر دم تک ان سے حسن سلوک کیا۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو جب اپنے والد ابوطالب کی وفات کی اطلاع کی تو آپ رو پڑے اور فرمایا جاؤ ان کو نسل دو اور کفن کا انتظام کرو۔نیز آپ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان پر رحم کرے۔(ابن سعد ) 45 جب ابو طالب کا جنازہ اٹھا تو اپنے محسن کے سفر آخرت کو دیکھ کر بے اختیار رسول اللہ گوان کی صلہ رحمی اور احسان یاد آئے تو یہ دعا کی کہ صلہ رحمی کا بدلہ آپ کو عطا ہو اور اے چا اللہ آپ کو بہترین جزا عطا کرے۔(ابن اثیر ) 46 رسول کریم چاہتے تھے کہ آپ کے ساتھی اور آپ سے محبت کا دم بھرنے والے بھی شکر کا اعلیٰ وصف اپنے اندر پیدا کریں۔ایک دفعہ حضرت ابوھریرہ کو یہ نصیحت فرمائی ! اے ابوھریرہ ! بہت زیادہ ڈرتے رہو تو آپ سب لوگوں سے زیادہ عبادت کرنے والے ہو جاؤ گے اور قناعت کرنے والے بن جاؤ۔سب سے زیادہ شکر کرنے والے ہو جاؤ گے۔(ابن ماجہ ) 47 اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آقا کی پیروی میں حقیقی حمد وشکر کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین۔⭑⭑⭑⭑⭑