اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 91 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 91

اسوہ انسان کامل 91 حق بندگی ادا کر نے والا۔۔۔۔عبد کامل اس کے علاوہ آپ نویں ذوالحجہ کا روزہ بھی رکھتے تھے۔(مسلم) 54 عام حالات میں رسول اللہ بھی گھر تشریف لاتے پوچھتے کچھ کھانے کو ہے۔جواب ملتا کچھ نہیں۔فرماتے تو میں آج روزہ ہی رکھ لیتا ہوں۔( ترندی) 55 کبھی کبھی ”صوم وصال بھی رکھتے یعنی متواتر کئی دن تک روزے، درمیان میں افطار نہ کرتے تھے لیکن صحابہؓ کو آپ نے اس سے روکا اور فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کھلا پلا دیتا ہے۔( بخاری ) 56 رمضان کی ایک اور اہم عبادت اعتکاف ہے۔دعویٰ نبوت سے قبل بھی رسول کریم کو تنہائی میں جاکر اللہ کو یاد کرنے کا شوق تھا۔چنانچہ غار حراء میں جا کر اعتکاف فرماتے بعد کے زمانے میں رمضان کی فرضیت کے بعد پہلے درمیانی عشرہ اور آخری عشرہ تک اعتکاف فرماتے رہے۔(بخاری) 57 جس میں آپ غیر معمولی عبادت کی توفیق پاتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آخری عشرہ میں نبی کریم اپنی کمر ہمت کس لیتے تھے۔اپنی راتوں کو زندہ کرتے اور عبادت الہی میں گزارتے تھے۔اور گھر والوں کو بھی جگا کر عبادت کے لئے تحریک فرماتے تھے۔اور اتنی محنت اور مجاہدہ آخری عشرہ میں فرماتے تھے کہ اتنا اہتمام کسی اور زمانہ میں نہیں ہوتا تھا۔(مسلم ) 58 رسول کریم کی عبادت کا معراج حج بیت اللہ کے موقع پر بھی دیکھا گیا جب آپ محض جانوروں کی قربانی ہی خدا کی راہ میں نہیں گزارتے تھے۔کفن کے لباس کی طرح محض دو چادروں کا لباس اوڑھ کر ننگے سر دیوانہ وارا اپنے رب کریم کے پاک گھر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔یہ وہ وقت تھا جب آپ کے جسم کے ساتھ آپ کی روح بھی اس طواف میں برابر کی شریک ہوتی تھی اور عبادت کا نقطۂ معراج حاصل ہوتا۔اگر چہ آپ کی ساری زندگی ہی ہمہ تن عبادت تھی۔1 بخاری (8) كتاب الصلاة باب 1 حواله جات 2 السيرة النبوية لابن هشام جلد 1 ص 235 مطبوعه مصر 3 السيرة النبوية لاهشام جز1 ص 243 مطبوعه مصر 4 ترمذی (2) کتاب الصلوة باب 113 5 بخاری (66) کتاب فضائل الصحابة باب 77