اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 47
أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ - أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطنِ الرَّحِيمِ - بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ - اَلرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ - إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ - اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (سورة الاحزاب: آیت 57) گزشتہ جو مضمون چل رہے ہیں یعنی گزشتہ کئی ہفتے سے جو واقعات ہو رہے ہیں، آزادی صحافت اور آزادی ضمیر کے نام پر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے اور ظالمانہ رویہ اختیار کرنے پر مغرب کے بعض اخباروں اور ملکوں نے جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، آج بھی مختصر ا اس کے بارے میں کچھ کہوں گا۔اور اس کے رد عمل میں بعض اخباروں اور ملکوں کے خلاف مسلمان ممالک میں جو ہوا چل رہی ہے اس بارے میں میں کہنا چاہتا ہوں۔یہ انفرادی طور پر بھی ہیں، اجتماعی طور پر بھی ہیں، حکومتی سطح پر بھی احتجاج ہو رہے ہیں بلکہ اسلامی ممالک کی آرگنائزیشن (او آئی سی) نے بھی کہا ہے کہ مغربی ممالک پر دباؤ ڈالا جائے گا کہ معذرت بھی کریں اور ایسا قانون بھی پاس کریں کہ آزادی صحافت اور آزادی ضمیر کے نام پر انبیاء تک نہ پہنچیں، کیونکہ اگر اس سے باز نہ آئے تو پھر دنیا کے امن کی کوئی ضمانت نہیں۔ان ملکوں کا یا آرگنا ئزیشن کا یہ بڑا اچھا رد عمل ہے۔اللہ تعالیٰ اسلامی ممالک میں اتنی مضبوطی پیدا کر دے اور ان کو توفیق دے کہ یہ حقیقت میں دلی درد کے ساتھ دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے ایسے فیصلے کروانے کے قابل ہوسکیں۔47