اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 92
غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کے متعلق اسلام کی خوبصورت تعلیم قرآن کریم میں متعدد جگہ اسلام کی اس خوبصورت تعلیم کا ذکر ملتا ہے جس میں غیر مسلموں سے حسن سلوک ، ان کے حقوق کا خیال رکھنا ، ان سے انصاف کرنا، ان کے دین پر کسی قسم کا جبر نہ کرنا، دین کے بارہ میں کوئی سختی نہ کرنا وغیرہ کے بہت سے احکامات اپنوں کے علاوہ غیر مسلموں کے لئے ہیں۔ہاں بعض حالات میں جنگوں کی بھی اجازت ہے لیکن وہ اس صورت میں جب دشمن پہل کرے ، معاہدوں کو توڑے، انصاف کا خون کرے ظلم کی انتہا کرے یا ظلم کرے لیکن اس میں بھی کسی ملک کے کسی گروہ یا جماعت کا حق نہیں ہے، بلکہ یہ حکومت کا کام ہے کہ فیصلہ کرے کہ کیا کرنا ہے، کس طرح اس ظلم کو ختم کرنا ہے نہ کہ ہر کوئی جہادی تنظیم اٹھے اور یہ کام کرنا شروع کر دے۔کفار مکہ اور دشمنان اسلام کی زیادتیوں اور ظلم کے بالمقابل آنحضور علی کا عظیم الشان اسوہ حسنہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی جنگوں کے مخصوص حالات پیدا کئے گئے تھے جن سے مجبور ہو کر مسلمانوں کو جوابی جنگیں لڑنی پڑیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ آج کل کی جہادی تنظیموں نے بغیر جائز وجوہات کے اور جائز اختیارات کے اپنے جنگجو آنہ نعروں اور عمل سے غیر مذہب والوں کو یہ موقع دیا ہے اور ان میں اتنی جرات پیدا ہوگئی ہے کہ انہوں نے نہایت ڈھٹائی اور بے شرمی سے آنحضرت ﷺ کی پاک ذات پر بیہودہ حملے کئے ہیں اور کرتے رہے ہیں جبکہ اس سراپا رحم اور محسن انسانیت اور عظیم محافظ حقوق انسانی کا تو یہ حال تھا کہ آپ جنگ کی حالت میں بھی کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے جو دشمن کو سہولت نہ مہیا کرتا ہو۔آپ کی زندگی کا ہر عمل، ہر فضل ، آپ کی زندگی کا پل پل اورلمحہ لحہ اس بات کا 92