اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 107
اور غیر مسلم دونوں کو اگر صلح میں کوئی منفعت مل رہی ہے، کوئی نفع مل رہا ہے، کوئی فائدہ ہورہا ہے تو اس فائدہ کو ہر ایک حصہ رسدی حاصل کرے گا۔) اسی طرح اگر مدینہ پر کوئی حملہ ہوگا تو سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔پھر ایک شرط ہے کہ ” قریش مکہ اور ان کے معاونین کو یہود کی طرف سے کسی قسم کی امداد یا پناہ نہیں دی جائے گی۔‘ ( کیونکہ مخالفین مکہ نے ہی مسلمانوں کو وہاں سے نکالا تھا۔مسلمانوں نے یہاں آکر پناہ لی تھی اس لئے اب اس حکومت میں رہنے والے اس دشمن قوم سے کسی قسم کا معاہدہ نہیں کر سکتے اور نہ کوئی مددلیں گے۔) ہر قوم اپنے اخراجات خود برداشت کرے گی“۔( یعنی اپنے اپنے خرچ خود کریں گے۔) اس معاہدہ کی رو سے کوئی ظالم یا آتم یا مفسد اس بات سے محفوظ نہیں ہوگا کہ اسے سزا دی جاوے یا اس سے انتقام لیا جاوے“۔(یعنی جیسا کہ پہلے بھی آچکا ہے کہ جو کوئی ظالم ہو گا، گناہ کرنے والا ہو گا غلطی کرنے والا ہو گا۔بہر حال اس کو سزا ملے گی ، پکڑ ہوگی۔اور یہ بلاتفریق ہوگی ، چاہے وہ مسلمان ہے یا یہودی ہے یا کوئی اور ہے۔) (ملخص از سیرت خاتم النبيين۔صفحه 279) پھر اسی مذہبی رواداری اور آزادی کو قائم رکھنے کیلئے آپ نے نجران کے وفد کو مسجد نبوی میں عبادت کی اجازت دی اور انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے اپنی عبادت کی۔جبکہ صحابہ کا خیال تھا کہ نہیں کرنی چاہئے۔آپ نے کہا کوئی فرق نہیں پڑتا۔پھر اہل نجران کو جو امان نامہ آپ نے دیا اس کا بھی ذکر ملتا ہے اس میں آپ نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری قبول فرمائی کہ مسلمان فوج کے ذریعہ سے ان عیسائیوں کی (جو نجران میں آئے تھے ) سرحدوں کی حفاظت کی جائے گی۔ان کے گرجے ان کے عبادت خانے ، مسافر خانے خواہ وہ کسی دور دراز علاقے میں ہوں یا شہروں میں ہوں یا پہاڑوں میں ہوں یا 107