اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 103 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 103

حق اور آزادی کی بھی ایک مثال دیکھیں۔اپنی حکومت میں جبکہ آپ کی حکومت مدینے میں قائم ہو چکی تھی اس وقت اس آزادی کا نمونہ ملتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کرنے لگے۔ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی۔مسلمان نے کہا اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو تمام جہانوں پر منتخب کر کے فضیلت عطا کی۔اس پر یہودی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے اور چن لیا۔اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھایا اور یہودی کو تھپڑ مار دیا۔یہودی شکایت لے کر آنحضرت علیہ اللہ کے پاس حاضر ہوا جس پر آنحضرت صلی اللہ نے مسلمان سے تفصیل پوچھی اور پھر فرمايا: لَا تُخَيَّرُونى عَلَى مُوسی کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو۔(بخاری کتاب الخصومات باب ما يذكر في الأشخاص والخصومة بين المسلم واليهود) تو یہ تھا آپ کا معیار آزادی ، آزادی مذہب اور ضمیر ، کہ اپنی حکومت ہے ، مدینہ ہجرت کے بعد آپ نے مدینہ کے قبائل اور یہودیوں سے امن و امان کی فضا قائم رکھنے کیلئے ایک معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے مسلمانوں کی اکثریت ہونے کی وجہ سے یا مسلمانوں کے ساتھ جو لوگ مل گئے تھے، وہ مسلمان نہیں بھی ہوئے تھے ان کی وجہ سے حکومت آپ عبید اللہ کے ہاتھ میں تھی۔لیکن اس حکومت کا یہ مطلب نہیں تھا کہ دوسری رعایا ، رعایا کے دوسرے لوگوں کے ، ان کے جذبات کا خیال نہ رکھا جائے۔قرآن کریم کی اس گواہی کے باوجود کہ آپ تمام رسولوں سے افضل ہیں، آپ نے یہ گوارا نہ کیا کہ انبیاء کے مقابلہ کی وجہ سے فضا کو مکدر کیا جائے۔آپ نے اس یہودی کی بات سن کر مسلمان کی ہی سرزنش کی کہ تم لوگ اپنی لڑائیوں میں انبیاء کو نہ لایا کرو۔ٹھیک ہے تمہارے نزدیک میں تمام رسولوں سے افضل ہوں۔اللہ تعالیٰ بھی اس کی گواہی دے رہا ہے لیکن ہماری حکومت میں ایک شخص کی دلآزاری 103