اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 85

”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بزرگ صحابہ کی لڑائیاں یا تو اس لئے تھیں کہ کفار کے حملہ سے اپنے تئیں بچایا جائے اور یا اس لئے تھیں کہ امن قائم کیا جائے۔اور جو لوگ تلوار سے دین کو روکنا چاہتے ہیں ان کو تلوار سے پیچھے ہٹایا جائے۔مگر اب کون مخالفوں میں سے دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے۔اور مسلمان ہونے والے کو کون روکتا ہے اور مساجد میں نماز پڑھنے اور بانگ دینے سے کون منع کرتا ہے“۔(ترياق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15- صفحه 159-160) یعنی اذان دینے سے کون منع کرتا ہے۔صرف پاکستان میں احمدیوں کو ہی منع کیا جا رہا ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم خاموش ہیں، ہم نے تو کوئی شور نہیں مچایا۔بغیر اذان کے نماز پڑھ لیتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : صحیح بخاری ( کتاب الانبیاء باب نزول عیسی ابن مریم ” میں مسیح موعود کی شان میں صاف حدیث موجود ہے کہ يَضَعُ الحَرب یعنی مسیح موعود لڑائی نہیں کرے گا۔تو پھر کیسے تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو آپ لوگ اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ صحیح بخاری قرآن شریف کے بعد اصح الکتب ہے، اور دوسری طرف صحیح بخاری کے مقابل پر ایسی حدیثوں پر عقیدہ کر بیٹھتے ہیں کہ جو صریح بخاری کی حدیث کے منافی پڑی ہیں۔(ترياق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحه 159) پس یہ جماعت احمدیہ کا نظریہ ہے اور قرآن و حدیث کے مطابق ہے۔اور ببانگ دہل کھلے طور پر ہم یہ اعلان کرتے ہیں، کہتے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ اب یہ لوگ جو جہاد جہاد کرتے پھر رہے ہیں جس کی آڑ میں سوائے دہشت گردی کے کچھ نہیں ہوتا یہ جہاد نہیں ہے اور سراسر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔85