اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 84

" پر موت دے۔ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جا تار ہے“۔(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحه 459 ) تو یہ ہے ہماری تعلیم۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دی ہوئی تعلیم ہے اور یہ ہے ہمارے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی بھڑکائی ہوئی آگ اور اس کا صحیح فہم اور ادراک جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دیا۔اس کے بعد بھی یہ کہنا کہ نعوذ باللہ خاکے بنانے کے سلسلہ میں اخبار اور حکومت ڈنمارک کو احمدیوں نے encourage کیا تھا۔اس کے بعد انہوں نے خاکے شائع کئے۔تو ان لوگوں پر سوائے اللہ تعالیٰ کی لعنت کے اور کچھ نہیں ڈالا جا سکتا۔مسئلہ جہاد بالسیف کی حقیقت اب دوسری بات یہ ہے کہ جہاد کو منسوخ کر دیا ہے۔اُس نے پہلی بات یہ کھی ہے لیکن اہم وہ بات تھی کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کونعوذ باللہ ہی نہیں مانتے یا ان کی تعلیم اب منسوخ ہو گئی ہے۔دوسری بات اس نے جہاد کی منسوخی کی لکھی ہے اس بارے میں مسلمانوں کے اپنے لیڈر گذشتہ دنوں میں جب اُن پر پڑی ہے اور جن طاقتوں کے یہ طفیلی ہیں اور جن سے لے کر کھاتے ہیں انہوں نے جب ان کو دبایا تو انہیں کے کہنے پر یہ بیان دے چکے ہیں کہ یہ جو آج کل جہاد کی تعریف کی جاتی ہے اور یہ کہ بعض مسلمان تنظیمیں آئے دن حرکتیں کرتی رہتی ہیں یہ جہاد نہیں ہے اور اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔اخباروں میں ان لوگوں کے بیان چھپ چکے ہیں۔جماعت احمدیہ کا تو پہلے دن سے ہی یہ مؤقف ہے اور یہ نظریہ ہے اور یہ تعلیم ہے کہ فی زمانہ ان حالات میں جہاد بند ہے اور یہ عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : 84