اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 43

سواے سننے والو! ان باتوں کو یا درکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہو گا۔میں اپنے نفس میں کوئی نیکی نہیں دیکھتا اور میں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا۔اور میں اپنے تئیں صرف ایک نالائق مزدور سمجھتا ہوں۔یہ محض خدا کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہوا۔پس اُس خدائے قادر اور کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس مشت خاک کو اس نے باوجود ان تمام بے ہنریوں کے قبول کیا“۔(تجليات الهيه - روحانی خزائن جلد 20صفحہ408-410) پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوی ہے یا پیشگوئی ہے اور ہم ہر روز اس کو پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔لیکن ہر مذہب وقوم کے لئے بھی یہ غور کا مقام ہے۔مسیح موعود کی جماعت اللہ تعالیٰ کے ان سے کئے گئے وعدہ کے مطابق ترقی کرتی چلی جا رہی ہے اور جیسا کہ میں نے کہا ہر روز ہم ترقی کو دیکھتے ہیں۔پس مسلمان بھی غور کریں ( جو احمدیوں کے علاوہ مسلمان ہیں ) کہ مسیح ومہدی جو آنے کو تھا وہ آچکا ہے۔اور اس کی صداقت کے لئے قرآن وحدیث میں بے شمار ثبوت موجود ہیں۔قرآن سے بھی اور حدیث سے بھی مل جاتے ہیں۔جن میں سے ایک دو کا میں نے ذکر بھی کیا ہے۔زمانے کی حالت بھی اس کو پکار رہی ہے۔اب کس انتظار میں بیٹھے ہو۔کچھ تو اے لوگو سوچو۔عیسائیوں کے لئے بھی جس مسیح نے دوبارہ آنا تھا آ گیا ہے۔اور باقی مذاہب والوں کو بھی ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کے لئے جس نے آنا تھا وہ آ گیا ہے۔اب اگر ایک دوسرے کے جذبات کا احترام سکھانا ہے تو اسی مسیح و مہدی نے سکھانا ہے۔اب اگر تمام مذاہب کے انبیاء کا احترام سکھانا ہے تو اس مسیح موعود نے سکھانا ہے۔اب اگر دنیا میں امن اور پیار اور محبت پھیلانی ہے تو اسی مسیح موعود نے پھیلانی ہے۔اب اگر انسانیت کو دکھوں اور تکلیفوں سے نجات دلانی ہے تو اسی مسیح موعود و مہدی موعود نے دلانی ہے۔اب اگر اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والے راستے دکھانے ہیں اور بندے 43