اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 37

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حلفیہ بیان کہ آپ خدا تعالی کی طرف سے ہیں پھر آپ نے اپنی اس سچائی کے لئے بہت بڑا دعویٰ کیا ہے، ایسا دعویٰ کیا ہے جو کوئی جھوٹا نہیں کر سکتا۔آپ فرماتے ہیں کہ : میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں جن میں سے بطور نمونہ کسی قدر اس کتاب میں بھی لکھے گئے ہیں۔اگر اس کے معجزانہ افعال اور کھلے کھلے نشان جو ہزاروں تک پہنچ گئے ہیں میرے صدق پر گواہی نہ دیتے تو میں اس کے مکالمہ کوکسی پر ظاہر نہ کرتا اور نہ یقینا کہہ سکتا کہ یہ اس کا کلام ہے۔پر اس نے اپنے اقوال کی تائید میں وہ افعال دکھائے جنہوں نے اس کا چہرہ دکھانے کے لئے ایک صاف اور روشن آئینہ کا کام دیا۔(تتمه حقيقة الوحى روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 503) جو اللہ تعالیٰ کے نام کا دعویٰ کرتا ہے اگر اس کا دعوی سچا نہ ہو تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کیا سلوک کرتا ہے۔خود ہی دیکھ لیں اللہ جھوٹے نبی کے متعلق فرماتا ہے ﴿وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴾ (سورة الحاقة: آيات 45-46) اور اگر وہ بعض باتیں جھوٹے طور پر ہماری طرف منسوب کرتا تو ہم اس کو ضرور داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر فرمایا ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴾ (سورة الحاقة: آیت 47) پھر ہم یقینا اس کی رگ جان کاٹ دیتے۔37