اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 4

والسلام کی وجہ سے حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کا فہم و ادراک دوسروں سے بہت زیادہ ہے اور کئی احمدی خط بھی لکھتے ہیں اور اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہیں، تجاویز دیتے ہیں کہ ایک مستقل مہم ہونی چاہئے ، دنیا کو بتانا چاہئے کہ اس عظیم نبی کا کیا مقام ہے تو بہر حال اس بارے میں جہاں جہاں بھی جماعتیں Active ہیں وہ کام کر رہی ہیں لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا رد عمل کبھی ہڑتالوں کی صورت میں نہیں ہوتا اور نہ آگیں لگانے کی صورت میں ہوتا ہے اور نہ ہی ہڑتالیں اور توڑ پھوڑ ، جھنڈے جلانا اس کا علاج ہے۔اس زمانے میں دوسرے مذاہب والے مذہبی بھی اور مغربی دنیا بھی اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کر رہے ہیں۔اس وقت مغرب کو مذہب سے تو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ان کی اکثریت دنیا کی لہو و لعب میں پڑ چکی ہے۔اور اس میں اس قدر hvove ہو چکے ہیں کہ ان کا مذہب چاہے اسلام ہو ، عیسائیت ہو یا اپنا کوئی اور مذہب جس سے یہ منسلک ہیں ان کی کچھ پرواہ نہیں وہ اس سے بالکل لا تعلق ہو چکے ہیں۔اکثریت میں مذہب کے تقدس کا احساس ختم ہو چکا ہے بلکہ ایک خبر فرانس کی شاید پچھلے دنوں میں یہ بھی تھی کہ ہم حق رکھتے ہیں ہم چاہے تو نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ کا بھی کارٹون بنا سکتے ہیں۔تو یہ تو ان لوگوں کا حال ہو چکا ہے۔اس لئے اب دیکھ لیں یہ کارٹون بنانے والوں نے جو انتہائی قبیح حرکت کی ہے اور جیسی یہ سوچ رکھتے ہیں اور اسلامی دنیا کا جو رد عمل ظاہر ہوا ہے اس پر ان میں سے کئی لکھنے والوں نے لکھا ہے کہ یہ رد عمل اسلامی معاشرے اور مغربی سیکولر جمہوریت کے درمیان تصادم ہے حالانکہ اس کا معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اب تو ان لوگوں کی اکثریت جیسا کہ میں نے کہا اخلاق باختہ ہو چکی ہے۔آزادی کے نام پر بے حیائیاں اختیار کی جارہی ہیں ، حیا تقریباً ختم ہوچکی ہے۔4