اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 110 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 110

جوامورسیاست کے ذریعے سے امن قائم رکھتے تھے مگر آنحضرت علی اللہ کے وقت میں یہ دونوں عہدے خدا تعالیٰ نے آنجناب“۔( یعنی آنحضرت علی السلم " ہی کو عطا کئے اور جرائم پیشہ لوگوں کو الگ الگ کر کے باقی لوگوں کے ساتھ جو برتاؤ تھا وہ آیت مندرجہ ذیل سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے وَقُلْ لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَبَ وَالْأُمِّيِّينَ ءَ أَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا - وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ (الجزو نمبر ۳- سورة آل عمران) ا اور اے پیغمبر اہل کتاب اور عرب کے جاہلوں کو کہو کہ کیا تم دین اسلام میں داخل ہوتے ہو۔پس اگر اسلام قبول کر لیں تو ہدایت پاگئے۔اور اگر منہ موڑیں تو تمہارا تو صرف یہی کام ہے کہ حکم الہی پہنچا دو۔اس آیت میں یہ نہیں لکھا کہ تمہارا یہ بھی کام ہے کہ تم ان سے جنگ کرو۔اس سے ظاہر ہے کہ جنگ صرف جرائم پیشہ لوگوں کیلئے تھا کہ مسلمانوں کو قتل کرتے تھے یا امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے اور چوری ڈاکہ میں مشغول رہتے تھے۔اور یہ جنگ بحیثیت بادشاہ ہونے کے تھا ، نہ بحیثیت رسالت“۔(یعنی کہ جب آپ حکومت کے مقتدر اعلیٰ تھے تب جنگ کرتے تھے اس لئے نہیں کرتے تھے کہ نبی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَاتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا - إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (الجزونمبر ۲ - سورة البقرة) ۲ - ( ترجمہ ) تم خدا کے راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔یعنی دوسروں سے کچھ غرض نہ رکھو اور زیادتی مت کرو۔خدا زیا دتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“۔(چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحه 242-243) پس جس نبی پاک عیب اللہ پر یہ شریعیت اتری ہے کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پر اترے ہوئے احکامات کے معاملہ میں زیادتی کرتا ہو۔آپ علیہ وسلم نے تو فتح مکہ کے موقع 1۔سورة آل عمران: آیت 21 ۲۔سورة البقرة: آيت 191 110