اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 108
جنگلوں میں ہوں ان کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ان کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی ہوگی اور اُن کی اس آزادی عبادت کی حفاظت بھی مسلمانوں پر فرض ہے اور آنحضرت صلی اللہ نے فرمایا کیونکہ اب یہ مسلمان حکومت کی رعایا ہیں اس لئے اس کی حفاظت اس لحاظ سے بھی مجھ پر فرض ہے کہ اب یہ میری رعایا بن چکے ہیں۔پھر آگے ہے کہ اسی طرح مسلمان اپنی جنگی مہموں میں انہیں (یعنی نصاری کو ) ان کی مرضی کے بغیر شامل نہیں کریں گے۔ان کے پادری اور مذہبی لیڈر جس پوزیشن اور منصب پر ہیں وہ وہاں سے معزول نہیں کئے جائیں گے۔اسی طرح اپنے کام کرتے رہیں گے۔ان کی عبادت گاہوں میں مداخلت نہیں ہوگی وہ کسی بھی صورت میں زیر استعمال نہیں لائی جائیں گی۔نہ سرائے بنائی جائیں گی نہ وہاں کسی کو ٹھہرایا جائے گا اور نہ کسی اور مقصد میں ان سے پوچھے بغیر استعمال میں لایا جائے گا۔علماء اور راہب جہاں کہیں بھی ہوں ان سے جزیہ اور خراج وصول نہیں کیا جائے گا۔اگر کسی مسلمان کی عیسائی بیوی ہو گی تو اسے مکمل آزادی ہوگی کہ وہ اپنے طور پر عبادت کرے۔اگر کوئی اپنے علماء کے پاس جا کر مسائل پوچھنا چاہے تو جائے۔گرجوں وغیرہ کی مرمت کیلئے آپ نے فرمایا کہ اگر وہ مسلمانوں سے مالی امداد لیں اور اخلاقی امداد لیں تو مسلمانوں کو مدد کرنی چاہئے کیونکہ یہ بہتر چیز ہے اور یہ نہ قرض ہوگا اور نہ احسان ہوگا بلکہ اس معاہدہ کو بہتر کرنے کی ایک صورت ہو گی کہ اس طرح کے سوشل تعلقات اور ایک دوسرے کی مدد کے کام کئے جائیں۔(تلخیص از زاد المعاد في هدي خير العباد۔فصل في قدوم وفد نجران) تو یہ تھے آپ صلی اللہ کے معیار مذہبی آزادی اور رواداری کے قیام کیلئے۔اس کے باوجود آپ پر ظلم کرنے اور تلوار کے زور پر اسلام پھیلانے کا الزام لگانا انتہائی ظالمانہ حرکت ہے۔108