اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 98

نجد کی طرف مہم بھیجی تو بوحنیفہ کے ایک شخص کو قیدی بنا کر لائے جس کا نام شمامہ بن اثال تھا۔صحابہ نے اسے مسجد نبوی کے ستون کے ساتھ باندھ دیا۔رسول کریم عبد اللہ اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے ثمامہ تیرے پاس کیا عذر ہے یا تیرا کیا خیال ہے کہ تجھ سے کیا معاملہ ہو گا۔اس نے کہا میر اظن اچھا ہے۔اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپ ایک خون بہانے والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ انعام کریں تو آپ ایک ایسے شخص پر انعام کریں گے جو کہ احسان کی قدردانی کرنے والا ہے۔اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جتنا چاہے لے لیں۔اس کے لئے اتنا مال اس کی قوم کی طرف سے دیا جاسکتا تھا۔یہاں تک کہ اگلا دن چڑھ آیا۔آپ علیہ اللہ پھر تشریف لائے اور ثمامہ سے پوچھا کیا ارادہ ہے۔چنانچہ ثمامہ نے عرض کی کہ میں تو کل ہی آپ سے عرض کر چکا تھا کہ اگر آپ انعام کریں تو آپ ایک ایسے شخص پر انعام کریں گے جو کہ احسان کی قدردانی کرنے والا ہے۔آپ عیدی اللہ نے اس کو وہیں چھوڑا۔پھر تیسرا دن چڑھا پھر آپ اس کے پاس گئے آپ نے فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا ارادہ ہے؟ اس نے عرض کی جو کچھ میں نے کہنا تھاوہ کہہ چکا ہوں۔آپ علی اللہ نے فرمایا اسے آزاد کر دو۔تو تمامہ کو آزاد کر دیا گیا۔اس پر وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں گیا اور غسل کیا اور مسجد میں داخل ہو کر کلمہ شہادت پڑھا۔اور کہا اے محمد علی اللہ بخدا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ نا پسند آپ کا چہرہ ہوا کرتا تھا اور اب یہ حالت ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب آپ کا چہرہ ہے۔بخدا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ آپ کا دین ہوا کرتا تھا۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ میرا محبوب ترین دین آپ کا لایا ہوا دین ہے۔بخدا میں سب سے زیادہ ناپسند آپ کے شہر کو کرتا تھا۔اب یہی شہر میرا محبوب ترین شہر ہے۔آپ کے گھوڑ سواروں نے مجھے پکڑ لیا جبکہ میں عمرہ کرنا چاہتا تھا۔آپ علیم اس کے بارہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔رسول اللہ علیم اللہ سے پوچھا کہ جا تو میں عمرہ کرنے کے لئے رہا تھا اب آپ کا کیا ارشاد 98