اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 97

کے دربار میں حاضر ہوئے اور اس بات کی تصدیق چاہی تو اس کی آمد پر رسول اللہ صلی اللہ نے اس سے احسان کا حیرت انگیز سلوک کیا۔پہلے تو آپ دشمن قوم کے سردار کی عزت کی خاطر کھڑے ہو گئے کہ یہ دشمن قوم کا سردار ہے اس لئے اس کی عزت کرنی ہے۔اس لئے کھڑے ہو گئے اور پھر عکرمہ کے پوچھنے پر فرمایا کہ واقعی میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔(موطا امام مالک کتاب النكاح۔نكاح المشرك اذا اسلمت زوجته (قبله) عکرمہ نے پھر پوچھا کہ اپنے دین پر رہتے ہوئے ؟ یعنی میں مسلمان نہیں ہوا۔اس شرک کی حالت میں مجھے آپ نے معاف کیا ہے، آپ نے مجھے بخش دیا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ ہاں۔اس پر عکرمہ کا سینہ اسلام کیلئے کھل گیا اور بے اختیار کہہ اٹھا کہ اے محمد (اللہ) آپ واقعی بے حد حلیم اور کریم اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ کے حسن خلق اور احسان کا یہ معجزہ دیکھ کر عکرمہ مسلمان ہو گیا۔(السيرة الحلبيه۔جلد سوم صفحه 109 - مطبوعه بيروت۔باب ذكر مغازية عالم فتح مكة شرفها الله تعالى) تو اسلام اس طرح حسن اخلاق سے اور آزادی ضمیر و مذہب کے اظہار کی اجازت سے پھیلا ہے۔حسن خلق اور آزادی مذہب کا یہ تیر ایک منٹ میں عکرمہ جیسے شخص کو گھائل کر گیا۔آنحضرت اللہ نے قیدیوں اور غلاموں تک کو یہ اجازت دی تھی کہ جو مذہب چاہو اختیار کرو۔لیکن اسلام کی تبلیغ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسلام کی تعلیم کے بارہ میں بتاؤ کیونکہ لوگوں کو پتہ نہیں ہے۔یہ خواہش اس لئے ہے کہ یہ تمہیں اللہ کا قرب عطا کرے گی اور تمہاری ہمدردی کی خاطر ہی ہم تم سے یہ کہتے ہیں۔چنانچہ ایک قیدی کا ایک واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے۔سعید بن ابی سعید بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول کریم عبید اللہ نے 97