عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 233 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 233

عالمی راہنماؤں کو خطوط 233 مسیح موعود اور امام مہدی جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور گزشتہ انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق موجودہ زمانہ میں ظاہر ہونا تھا وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی ہیں۔آپ نے 1889ء میں ایک پاک اور متقی جماعت کی بنیاد رکھی اور اس کا نام جماعت احمدیہ سلمہ رکھا۔اس جماعت کی تشکیل کا مقصد انسان اور خدا کے مابین زندہ تعلق قائم کرنا اور لوگوں کو حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف متوجہ کرنا تھا تا کہ ہر انسان باہمی احترام اور خیر سگالی کے جذبہ کے تحت زندگی بسر کرے۔1908ء میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی وفات ہو گئی۔اُس وقت احباب جماعت کی تعداد چار لاکھ تھی۔آپ کی وفات کے بعد الہی منشا کے مطابق خلافت کا نظام جاری ہوا اور اس وقت خدا کا یہ عاجز بندہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پانچوں خلیفہ ہے۔جماعت احمد یہ مسلمہ اپنے بانی کے مشن کو تمام دُنیا میں پھیلانے کے لیے کوشاں ہے۔ہمارا پیغام محبت صلح اور اخوت ہے۔نیز ہمارا نصب العین ”محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں!“ ہے۔یہ دراصل اسلام کی خوبصورت پا کیز تعلیم کا خلاصہ ہے۔یہاں یہ ذکر بھی برمحل ہوگا کہ یہ ایک حسین اتفاق ہے کہ بانی جماعت احمدیہ مسلمہ کے دور میں ملکہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی منائی گئی تھی تو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے اُس وقت ایک کتاب لکھی جس کا نام ” تحفہ قیصریہ ہے۔اس کتاب میں آپ نے ملکہ کو اس بات پر مبارک باد کا پیغام بھیجا کہ ان کے عہد حکومت میں برصغیر میں انصاف، مذہبی آزادی اور پُر امن فضا قائم ہو چکی تھی۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے اسلام کی خوب صورت تعلیم اور اپنی بعثت کا مقصد اور دعاوی کوکھول کر بیان کیا۔اگر چہ فی زمانہ برصغیر پر برطانیہ کی حکومت نہیں لیکن یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ حکومت برطانیہ نے مختلف قومیت اور مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو مساوی حقوق ، آزادی مذہب، آزادی اظہار اور اپنے عقاید کی تبلیغ کی اجازت کے ساتھ اپنے ملک میں رہنے کی اجازت دے رکھی ہے۔یہ برطانیہ کی قوت برداشت کے اعلیٰ معیار کا کافی وشافی ثبوت ہے۔آج برطانیہ میں ہزاروں احمدی مسلمان بس رہے ہیں۔ان میں سے اکثر اپنے ممالک سے جان بچا کر