عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 108 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 108

108 80 نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو زندگی گزارنے کے لیے ایک اور خوبصورت تعلیم دی ہے آپ نے فرمایا کہ ایک حقیقی مومن کو ہمیشہ اچھی اور پاکیزہ چیزوں کی تلاش میں رہنا چاہیے۔فرمایا جب کبھی کوئی مسلمان کوئی پر حکمت اور عمدہ بات سنے تو اُسے ذاتی میراث سمجھے۔پس جس عزم کے ساتھ انسان اپنی میراث حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اسی طرح مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پر حکمت مشوروں اور نیکی کی باتوں کی جستجو کرتے رہا کریں اور جہاں کہیں بھی انہیں پائیں اُن سے فائدہ اُٹھا لیں۔ایسے وقت میں جبکہ مہاجرین کی آبادکاری کے بارہ میں اتنے تحفظات ہیں، یہ اُصول کتنا خوبصورت اور کامل راہنمائی پر مبنی ہے۔مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ مقامی معاشروں میں ضم ہونے اور باہمی عزت و احترام کے فروغ کے لیے انہیں چاہیے کہ وہ ہر معاشرہ، علاقہ ، شہر اور ملک کی اچھائیاں معلوم کریں۔ان اچھائیوں کا صرف علم ہی کافی نہیں بلکہ مسلمانوں کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ انہیں اپنی زندگیوں میں اپنا ئیں۔یہ وہ تعلیم ہے جو حقیقی معنوں میں باہمی اعتماد اور باہمی محبت اور احترام پیدا کرتی ہے۔حقیقی مومن سے بڑھ کر کون امن پسند ہوسکتا ہے۔جو نہ صرف اپنے ایمان کے تقاضے پورے کرتا ہے بلکہ اپنے یا کسی بھی اور معاشرہ کی تمام تر اچھائیاں اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔کون ہے جو اس سے بڑھ کر امن اور سلامتی کو فروغ دے سکتا ہے؟ آج کے ذرائع خبر رسانی کی بدولت دنیا اب ایک گلوبل و پیچ کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہے۔یہ وہ امر ہے جس کی پیشگوئی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے فرمائی تھی۔جب آپ نے فرمایا کہ ایک وقت آتا ہے جب تمام دنیا ایک ہوگی اور فاصلے سمٹ جائیں گے۔آپ نے فرمایا کہ تیز اور جدید ذرائع اطلاعات کے سبب لوگ پوری دنیا کو دیکھنے کے قابل ہوں گے۔در حقیقت یہ قرآن پاک کی پیشگوئی ہے جسے آپ نے بالوضاحت بیان کیا ہے۔اس سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ جب ایسا وقت آئے تو لوگوں کو ایک دوسرے کی اچھی چیزوں کے سیکھنے اور اُن پر عمل کرنے کی جستجو کرنی ہوگی تاکہ اس طریق سے وہ اپنی گمشدہ میراث حاصل کر پائیں۔دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمام مثبت باتیں اپنائی جانی چاہئیں جبکہ تمام منفی چیزوں کو مستر د کر دینا چاہیے۔قرآن پاک نے بالصراحت یہ حکم دیا ہے کہ سچا مسلمان وہ ہے کہ جو نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے۔یہ سب