عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 95

امن کی کنجی۔بین الاقوامی اتحاد ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا کے رہنے والے خواہ وہ افریقہ ، یورپ، ایشیا یا کسی بھی علاقہ سے تعلق رکھتے ہوں، ان سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلیٰ ذہنی استعداد میں عطا کی گئی ہیں۔اگر تمام لوگ بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بہترین انداز میں بروئے کارلائیں تو یہ دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔تاہم اگر ترقی یافتہ قومیں دیگر کم ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک کا استحصال کریں اور ان قوموں کے زرخیز ذہنوں کو ترقی کے مواقع فراہم نہ کریں تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ اضطراب پھیلے گا اور بے چینی عالمی امن اور سلامتی کو تباہ کر دے گی۔95 امن کو فروغ دینے کے لیے اسلام کا ایک اور اصول یہ ہے کہ اگر کسی کے حقوق تلف کیے جار ہے ہوں تو اس بات کو ہرگز برداشت نہ کیا جائے۔جس طرح ہم اپنی حق تلفی ہوتی نہیں دیکھ سکتے اسی طرح ہمیں دوسروں کے لیے بھی اس ظلم کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے۔اسلام تعلیم دیتا ہے کہ جہاں سزا دینی پڑے وہاں یہ خیال رکھا جائے کہ یہ سزا جرم سے مناسبت رکھتی ہوتا ہم اگر معاف کرنے سے اصلاح ہوتی ہو تو معاف کرنے کو ترجیح دینی چاہیے اور اصل اور بنیادی مقصد اصلاح، مفاہمت اور دیر پا امن کا قیام ہونا چاہیے۔تا ہم دیکھنا چاہیے کہ آج کل حقیقت میں کیا ہو رہا ہے؟ اگر کوئی شخص بدی یا نا انصافی کرتا ہے تو متاثرہ شخص اس سے ایسا انتقام لینے کا خواہشمند ہوتا ہے جو اصل جرم سے بالکل مناسبت نہیں رکھتا اور تصور سے بہت بڑھ کر ہوتا ہے۔یہ بعینہ وہی صورتحال ہے جو ہم آج فلسطین اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ہوئے تنازعہ میں دیکھ رہے ہیں۔شام، لیبیا اور مصر میں حالات کی کشیدگی پر اہم طاقتوں نے بڑا کھل کر غم وغصہ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔حالانکہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ در حقیقت ان ممالک کے داخلی مسائل تھے لیکن فلسطین کے معاملہ پر ایسا نہیں لگتا کہ یہ طاقتیں کوئی تشویش رکھتی ہیں یا ویسی تشویش رکھتی ہیں۔اس قسم کے دوغلے معیار کا تاثر مسلمان ممالک کے لوگوں کے دلوں میں دنیا کی اہم طاقتوں کے خلاف رنجشیں اور کینہ بڑھارہا ہے۔یہ غصہ اور دشمنی انتہائی خطر ناک ہے اور کسی بھی وقت کسی ہولناک منظر کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ ترقی پذیر ممالک کیا کیا نقصان اُٹھائیں گے؟ کیا وہ زندہ بھی رہ پائیں گے؟ ترقی یافتہ ممالک کتنے متاثر ہوں گے؟ یہ صرف خدا ہی جانتا ہے۔میں اس کا جواب نہیں دے سکتا اور کوئی شخص بھی اس بات کا