عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 92

92 22 سنگینی اختیار کر سکتے ہیں اور امن کی تباہی کا باعث ہو سکتے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ایسے حالات کا اثر صرف مغرب تک محدود نہ ہوگا بلکہ اس سے تمام دُنیا اور خاص کر مسلمان ممالک متاثر ہوں گے۔اس کی وجہ سے مغربی اور مشرقی دنیا کے باہمی تعلقات سخت متاثر ہوں گے۔لہذا صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے اور امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق باہم مل کر کوشش کریں۔حکومتوں کو ایسی پالیسیاں ترتیب دینی چاہئیں جن سے باہمی احترام کو فروغ اور تحفظ ملے اور جن پالیسیوں سے دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو یا کسی طور پر نقصان پہنچتا ہوا یسی پالیسیوں کو خلاف قانون قرار دینا چاہیے جہاں تک مہاجرین کا تعلق ہے انہیں بخوشی نئے معاشرہ میں ہم آہنگ ہونا چاہیے اور مقامی افراد کو چاہیے کہ وہ نئے آنے والوں کے لیے اپنا دل کھولیں اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔مزید یہ کہ مسلمانوں کے خلاف پابندیاں لگانے سے امن حاصل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ صرف یہ پابندیاں لوگوں کے ذہنوں اور تصورات کو تبدیل نہیں کر سکتیں یہ صرف مسلمانوں سے متعلق نہیں بلکہ جب کبھی بھی کسی شخص کو مذہبی یا اعتقادی طور پر زبردستی دبایا جاتا ہے تو اس کا رد عمل منفی ہوتا ہے جو کہ امن کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ بعض ممالک میں بالخصوص مقامی افراد اور مسلمان مہاجرین کے مابین لڑائی جھگڑے بڑھ رہے ہیں۔یہ بات واضح ہے کہ دونوں طرف عدم برداشت پائی جاتی ہے اور ایک دوسرے کو جاننے میں ایک قسم کی ہچکچاہٹ ہے۔یورپ کے راہنماؤں کو اسے ایک حقیقت کے طور پر قبول کر لینا چاہیے اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور برداشت کو فروغ دینا ان کی ذمہ داری ہے۔یہ اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ ہر یورپی ملک کے درمیان اور خاص کر یورپین ممالک اور مسلمان ممالک کے درمیان خیر خواہی کی فضا قائم ہوتا کہ دنیا کا امن تباہ نہ ہو۔میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اس قسم کی تفریق اور مسائل کی بنیاد صرف مذہب اور دینی اعتقادات پر نہیں اور یہ صرف مغربی اور مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات کا سوال نہیں بلکہ در حقیقت اس بے چینی کا ایک اہم سبب عالمی معاشی بحران بھی ہے۔دراصل جب یہ موجودہ معاشی بحران یا (credit crunch) نہیں تھا تو کسی کو پروا بھی نہیں تھی کہ مسلمان، غیر مسلمان یا افریقن مہاجرین اس کثرت سے بڑھ رہے ہیں۔لیکن اب صورتحال مختلف ہے اور اس صورتحال نے اس تمام بے چینی کو جنم دیا ہے۔اس نے