عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 75
انصاف کی راہ۔قوموں کے مابین انصاف پر مبنی تعلقات 75 پر امن بین الاقوامی تعلقات قائم ہوں۔چنانچہ عالمی امن کے قیام کی ایک کوشش کے طور پر لیگ آف نیشنز قائم کی گئی۔اس کا بنیادی مقصد دنیا میں امن قائم کرنا اور آئندہ جنگوں کو روکنا تھا۔بدقسمتی سے اس لیگ کے اصول اور اس کی قرار دادوں میں بعض نقائص اور خامیاں تھیں۔چنانچہ وہ تمام اقوام کے حقوق کا صحیح رنگ میں مساویانہ تحفظ نہ کر سکے۔اس عدم مساوات کا نتیجہ یہ نکلا کہ دیر پا امن قائم نہ ہو سکا۔لیگ کی کوششیں ناکام ہو گئیں اور اس کے بر اور است نتیجہ کے طور پر جنگ عظیم دوئم برپاہوئی۔اس کے بعد جو بے مثل تباہی اور بربادی ہوئی ہم سب اس سے آگاہ ہیں جس میں قریباً سات کروڑ پچاس لاکھ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں ایک بڑی تعداد معصوم شہریوں کی تھی۔یہ جنگ دُنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہیے تھی۔اس کے نتیجہ میں ایسی پالیساں بنی چاہئیں تھیں جن کے ذریعہ انصاف کی بنیاد پر تمام فریقین کو ان کے جائز حقوق ملتے۔اور اس طرح یہ تنظیم عالمی امن کے قیام کا ایک ذریعہ ثابت ہوتی۔اس وقت کی حکومتوں نے بلا شبہ ایک حد تک قیام امن کی کوششیں کیں اور اس طرح اقوام متحدہ کی تشکیل عمل میں آئی۔تاہم جلد ہی یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ اقوام متحدہ کا اعلیٰ اور بہت اہم بنیادی مقصد پورا نہ ہو سکا۔در حقیقت آج بعض حکومتیں ایسے کھلے طور پر بیانات دیتی ہیں جن سے اس کی ناکامی ثابت ہوتی ہے۔انصاف کی بنیاد پر قائم بین الاقوامی تعلقات کے متعلق اسلام کیا تعلیم دیتا ہے جو قیام امن کا ذریعہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر فرما دیا ہے کہ ہماری قومیتیں اور نسلی پس منظر ہماری شناخت کا ذریعہ تو ہیں لیکن وہ ہمیں کسی قسم کی برتری اور فوقیت کا مستحق نہیں بنا تھیں۔چنانچہ قرآن کریم نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ تمام لوگ بحیثیت انسان برابر ہیں۔آنحضرت ﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ ہمیشہ یا درکھیں کہ کسی عربی کو غیر عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔نہ ہی کسی غیر عربی کو عربی پر کوئی برتری حاصل ہے۔پ ﷺ نے سکھایا کہ کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے نہ ہی کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت ہے۔چنانچہ اسلام کی یہ واضح تعلیم ہے کہ تمام قوموں اور نسلوں کے لوگ برابر ہیں۔آپ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ سب لوگوں کو بلا امتیاز اور بلا تعصب یکساں حقوق ملنے چاہیں۔یہ وہ بنیادی اور سنہری اصول ہے جو بین الاقوامی امن اور ہم آہنگی کی بنیا درکھتا ہے۔تاہم آج ہم طاقتور اور کمزور اقوام کے مابین فرق اور تقسیم دیکھتے ہیں۔مثال کے طور پر اقوام متحدہ میں * سورة الْحُجُرَات : 14