عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 42

42 مفادات کو قربان کر دیا جاتا ہے۔اگر ہم اِس اُصول کا مجموعی طور پر جائزہ لیں تو ہمیں احساس ہوگا کہ غیر منصفانہ تجاویز کومنوانے کے طریق جو دولت اور اثر ورسوخ کے بل بوتے پر اختیار کیے جاتے ہیں ترک کر دینے چاہئیں۔اس کی بجائے ہر ملک کے نمائندگان اور سفیروں کو خلوص نیت کے ساتھ اور انصاف اور برابری کے اُصولوں کی حمایت کی خواہش کے ساتھ آگے آنا چاہیے۔ہمیں ہر قسم کے تعصبات اور امتیاز کو یکسر مٹانا ہوگا کیونکہ قیام امن کا یہی واحد راستہ ہے۔اگر ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی یا سلامتی کونسل کا جائزہ لیں تو اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں کی جانے والی تقاریر اور جاری کیے جانے والے بیانات کی بہت تعریفیں کی جاتی ہیں اور سراہا جاتا ہے لیکن یہ پذیرائی بے معنی ہے کیونکہ اصل فیصلے تو پہلے ہی ہو چکے ہوتے ہیں۔پس جہاں فیصلے بڑی طاقتوں کے دباؤ اور اثر کے تحت اور انصاف اور حقیقی حق خود ارادیت کے تقاضوں کے خلاف کیے جائیں تو ایسی تقاریر کو کھلی اور بے معنی ہو جاتی ہیں اور صرف دنیا کو دھوکہ دینے کے کام ہی آتی ہیں۔تا ہم اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہم عاجز آ کر اپنی کوششیں ترک کر دیں۔اس کے برعکس ملکی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے ہمارا نصب العین یہ ہونا چاہیے کہ ہم حکومت کو یہ یاد کرواتے رہیں کہ حالات ہم سے کیا تقاضا کر رہے ہیں۔ہمیں ذاتی مفادات رکھنے والے گروہوں کو بھی مسلسل نصیحت کرنی چاہیے تا کہ عالمی سطح پر انصاف کا قیام ہو۔صرف اسی صورت میں ہم اس دنیا کو امن و آشتی کا گہوارہ بناسکیں گے جو ہم سب کی خواہش ہے۔لہذا ہم نہ تو اپنی کوششیں ترک کر سکتے ہیں اور نہ ہی ترک کرنی چاہئیں۔اگر ہم ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرنا چھوڑ دیں گے تو ہمارا شمار بھی ان لوگوں میں ہو گا جو اعلیٰ اخلاقی اقدار اور معیار سے بے بہرہ ہیں۔قطع نظر اس بات کے کہ ہماری بات سنی جاتی ہے یا کوئی اثر پیدا کرتی ہے یا نہیں، ہمیں قیام امن کی خاطر دوسروں کو نصائح کرتے رہنا ہو گا۔مجھے ہمیشہ یہ دیکھ کر نہایت مسرت ہوتی ہے کہ مذہب وملت کی تفریق سے بالا ہو کر انسانی اقدار کے قیام کی خاطر بھاری تعداد میں لوگ اس تقریب کو سننے کے لیے اور دُنیا میں امن و محبت کے طریق سیکھنے اور ان پر بات کرنے کے لیے اس میں شامل ہوتے ہیں۔لہذا میں آپ سب لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی تمام تر کوششیں صرف کر کے قیام امن کے لیے کوشش کریں تا کہ ہم امید کی کرن کو زندہ رکھ سکیں کیونکہ ایک وقت آئے گا جب دنیا کے تمام خطوں میں حقیقی امن اور انصاف قائم ہو جائے گا۔( انشاء اللہ )