عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 32

32 2 لیکن اُسے ملکی قانون کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی اجازت ہرگز نہیں کیوں کہ کوئی مسلمان ایک ملک میں رہتے ہوئے اس ملک کے خلاف کام کر رہا ہو یا دشمنوں کا ساتھ دے رہا ہو تو اسے اس ملک میں بطور شہری رہنے کا کوئی حق نہیں۔پس یہ اسلامی تعلیمات کے صرف چند پہلو ہیں جو تمام بچے مسلمانوں کی وطن سے وفاداری اور محبت کے حقیقی تقاضوں کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔وقت مقررہ میں میں نے اس موضوع کو مختصر ا ہی چھوا ہے۔آخر پر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج دنیا ایک گلوبل و پیچ بن گئی ہے۔انسانوں کے ایک دوسرے سے روابط بہت گہرے ہو گئے ہیں۔ہر قوم، مذہب اور معاشرہ کے لوگ دنیا کے ہر ملک میں سکونت پذیر ہیں اس لیے ہر قوم کے لیڈ ر تمام لوگوں کے جذبات اور احساسات کو سمجھیں اور ان کا احترام کریں۔راہنماؤں اور ان کی حکومتوں کو ایسے قوانین بنانے چاہئیں جن سے سچائی اور انصاف کی رُوح اور ماحول پروان چڑھے نہ کہ ایسے قوانین بنائے جائیں جولوگوں میں مایوسی اور بے چینی پیدا کریں۔نا انصافیاں اور زیادتیاں ختم ہونی چاہئیں اور اس کے بدلہ میں حقیقی انصاف کے لیے کوشش کرنی چاہیے جس کے حصول کا بہترین طریق یہ ہے کہ دنیا اپنے خالق کو پہچانے۔پس ہر طرح کی وفاداری خدا سے وفاداری کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔اگر ایسا ہو جائے تو بہت جلد تمام ممالک کے عوام میں وفاداری کے بہترین معیار قائم ہو جائیں گے اور ساری دنیا میں امن و امان کی نئی راہیں کھل جائیں گی۔آخر میں ایک مرتبہ پھر میں آپ سب لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے آج مجھے یہاں آنے کی دعوت دی اور میری باتوں کو سنا۔اللہ آپ سب پر فضل فرمائے اور اللہ جرمنی پر بھی فضل فرمائے۔بہت شکریہ۔