عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 17
عالمی بحران پر اسلامی نقطۂ نظر عدل کے قیام کو ترجیح دی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ مجھے اس بات کا حوصلہ ہوا ہے کہ میں ان اُمور کی طرف آپ کی توجہ مبذول کراؤں۔دنیا میں امن قائم کرنے کی خاطر ہمیں ایک اور اصول یہ سکھایا گیا ہے کہ دوسروں کی دولت کو للچائی نظروں سے مت دیکھو۔قرآن کریم فرماتا ہے : ترجمہ : ” اور اپنی آنکھیں اُس عارضی متاع کی طرف نہ پسار جو ہم نے اُن میں سے بعض گروہوں کو دنیوی زندگی کی زینت کے طور پر عطا کی ہے تاکہ ہم اس میں اُن کی آزمائش کریں۔اور تیرے ربّ کا رزق بہت اچھا اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔“ ( سورة طه : 132) دوسروں کی دولت کو لالچ اور حسد سے دیکھنا بھی دنیا میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی ایک وجہ ہے۔ہر مادی آسائش کے حصول میں دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کے نتیجہ میں ایک نہ ختم ہونے والے لالچ اور حرص نے جنم لیا ہے۔انفرادی سطح پر اس دوڑ نے معاشرہ کے امن کو تباہ کر دیا ہے۔قومی سطح پر لالچ کی اس دوڑ کے نتیجہ میں دُنیا کا امن برباد ہوا ہے۔تاریخ سے ثابت ہے اور ہر عقل مند آدمی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ دوسروں کی دولت کے حصول کی خواہش لالچ اور حسد کو بڑھاتی ہے جو درحقیقت خسارہ کا سودا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ان کو چاہیے کہ وہ اپنے وسائل پر نظر رکھیں اور ان سے فائدہ اٹھا ئیں۔ارضی فتوحات کی کوششیں دراصل ان علاقوں کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے کی جاتی ہیں۔قوموں کے گٹھ جوڑ اور بلاکس بنانا در حقیقت بعض ممالک کے قدرتی وسائل کے حصول کے لیے ہے۔اس سلسلہ میں کئی مصنفین نے جو حکومتوں کے مشیر رہ چکے ہیں کتابیں لکھی ہیں جن میں اس امر کی تفصیل ملتی ہے کہ کس طرح بعض ممالک نے بعض دیگر اقوام کے وسائل پر قبضہ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ان مصنفین کے بیانات کس حد تک سچ ہیں یہ وہ خود جانتے ہیں یا خدا بہتر جانتا ہے لیکن ان کے پڑھنے سے جو صورتحال سامنے آتی ہے اس سے ان لوگوں کے دلوں میں جو اپنے غریب ممالک کے وفادار ہیں غصہ پیدا ہوتا ہے۔اور دہشت گردی اور اسلحہ کی دوڑ میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔آج یہ سمجھا جاتا ہے کہ دُنیا ماضی کی نسبت زیادہ ہوش مند، باشعور اور تعلیم یافتہ ہے۔غریب ممالک میں بھی ایسے ذہین لوگ موجود ہیں جنہوں