عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 91

امن کی کنجی۔بین الاقوامی اتحاد یہ تمام عناصر ایسے ہیں کہ ان کے ذریعہ سے دنیا بھر کی قومیں اس حد تک ایک دوسرے کے قریب آچکی ہیں جتنی پہلے کبھی بھی نہ تھیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف نسلوں ، مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد باہم مل جل کر مشتمل رہتے ہیں۔یقیناً بہت سے ممالک میں ایک بڑی تعداد دوسرے ممالک سے آنے والے مہاجرین پر ستنم ہے۔یہ مہاجرین اس حد تک معاشرہ میں گھل مل گئے ہیں کہ اب حکومتوں یا عوام کے لیے انہیں نکالنا بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن ہے تا ہم اس امیگریشن کو روکنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے جارہے ہیں اور قوانین سخت کیے جارہے ہیں لیکن پھر بھی بہت سے ایسے ذرائع ہیں جن سے ایک ملک کا شہری دوسرے ملک میں داخل ہوسکتا ہے۔91 غیر قانونی تارکین وطن کے معاملہ کو ایک طرف رکھ دیں تب بھی متعدد بین الاقوامی قوانین موجود ہیں جو ایسے افراد کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جو بعض وجوہات کی بنا پر اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوں۔ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کثیر تعداد میں مہاجرین کی آمد کے باعث مختلف ممالک میں بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔اس چیز کی ذمہ داری دونوں فریق یعنی مہاجرین اور مقامی لوگوں پر عاید ہوتی ہے۔ایک طرف تو بعض مہاجرین ایسے ہیں جو مقامی آبادی میں گھلنا ملنا نہیں چاہتے اور اس وجہ سے وہ مقامی افراد کے جذبات کو برانگیخت کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف بعض مقامی ایسے ہیں جو عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور آنے والوں کے لیے تنگ دلی ظاہر کرتے ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ نفرت خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔خاص طور پر مغربی ممالک میں بعض مسلمانوں اور بالخصوص مہاجرین کے منفی رویہ کے رد عمل کے طور پر مقامی لوگوں میں اس نفرت اور دشمنی کا اظہار اسلام کے خلاف ہوتا ہے۔یہ رد عمل اور نفرت کسی چھوٹے پیمانہ پر ہیں بلکہ انتہائی وسیع پیمانہ تک پھیل سکتی ہے اور پھیلتی بھی ہے۔اسی وجہ سے مغربی راہنما با قاعدگی سے ان مسائل پر بات کرتے رہتے ہیں۔چنانچہ جرمن چانسلر اس وجہ سے یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ مسلمان جرمنی کا حصہ ہیں اور وزیر اعظم برطانیہ مسلمانوں کو معاشرہ میں گھلنے ملنے کی ضرورت پر زور دیتے اور بعض ممالک کے راہنما تو مسلمانوں کو دھمکیاں دینے کی حد تک بھی گئے ہیں۔داخلی مسائل کی صورتحال اگر چہ سنگین نہ بھی سہی مگر اس حد تک ضرور خراب ہو چکی ہے کہ یہ پریشانی کا باعث بن چکی ہے۔یہ معاملات مزید