عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 77
انصاف کی راہ۔قوموں کے مابین انصاف پر مبنی تعلقات اُٹھائیں۔اس طرح مدد یا مہارت فراہم کرنے کی بنیاد پر حکومتوں کو ترقی پذیراً قوام کے اثاثوں یا قدرتی وسائل کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔البتہ جہاں کم تعلیم یافتہ افراد یاحکومتوں کو یہ کھانے کی ضرورت ہو کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کو کس طرح صحیح رنگ میں استعمال کر سکتے ہیں تو یہ کرنا چاہیے۔پھر قوموں اور حکومتوں کو ہمیشہ ان کی خدمت اور مدد کی کوشش بھی کرنی چاہیے جن کے پاس وسائل کم ہیں لیکن یہ مدد اپنے قومی یا سیاسی مفاد کی خاطر یا کسی قسم کا کوئی اور فائدہ اٹھانے کی نیت سے نہیں ہونی چاہیے۔ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ چھ سات عشروں میں اقوام متحدہ نے کئی ایسے پروگرام شروع کیے ہیں اور کئی ایسی فاؤنڈیشنز بنائی ہیں جن کا مقصد غریب ممالک کی مدد کرنا ہے تا کہ وہ ترقی کر سکیں۔اس کوشش میں انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے قدرتی وسائل کو چھان مارا ہے لیکن ان کوششوں کے باوجود ان ممالک میں سے کوئی ایک ملک بھی ترقی یافتہ ممالک کی سطح تک نہیں پہنچا ہے۔اس کی ایک وجہ یقینا ان غریب ممالک کی حکومتوں کی وسیع کرپشن ہے۔مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اس کے باوجود اپنے مفادات کے حصول کے لیے اس قسم کی حکومتوں کے ساتھ چلتے جارہے ہیں۔تجارتی وکاروباری معاہدے بھی ہو رہے ہیں اور امداد بھی فراہم کی جارہی ہے۔اس کے نتیجہ میں معاشرہ کے غریب اور محروم طبقات کی بے اطمینانی اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔اور یہ صورت حال ان ممالک میں اندرونی فساد اور بغاوت پر منتج ہوتی ہے۔ترقی پذیر ممالک کے عوام اس قدر مایوس ہو چکے ہیں کہ وہ نہ صرف اپنے راہنماؤں کے بلکہ بڑی طاقتوں کے بھی خلاف ہو چکے ہیں۔یہ لوگ شدت پسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جنہوں نے ان کی مایوسیوں کا فائدہ اٹھایا ہے اور ان کی اس امر میں حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ ان کے ساتھ شامل ہو جا ئیں اور ان کے نفرت انگیز نظریات کو آگے بڑھائیں۔اس کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کا امن تباہ ہو چکا ہے۔پس اسلام نے قیام امن کے کئی ذرائع کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے۔یہ کامل انصاف کا تقاضا کرتا ہے۔یہ ہمیشہ سچی گواہی دینے کا حکم دیتا ہے۔اسلام ہم سے یہ چاہتاہے کہ ہم کبھی بھی دوسروں کی دولت کی طرف حسد اور لالچ کی نظر سے نہ دیکھیں۔اسلام یہ بھی چاہتاہے کہ ترقی یافتہ اقوام اپنے مفادات کو ایک طرف رکھ کر غریب اور کم ترقی یافتہ اقوام کی در حقیقت بے غرضانہ مدد اور خدمت کریں۔اگر ان تمام اصولوں کی پابندی کی جائے تو دنیا میں 77