عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 76

76 ہمیں نظر آتا ہے کہ بعض ممالک کے مابین ایک امتیاز روا رکھا جاتا ہے۔چنانچہ سیکورٹی کونسل میں بعض مستقل ممبر ہیں اور بعض غیر مستقل ممبر ہیں۔یہ تقسیم ایک اندرونی بے چینی اور بے اطمینانی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ایسی رپورٹس مسلسل ملتی رہتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ممالک اس عدم مساوات پر احتجاج کرتے رہتے ہیں۔اسلام ہر معاملہ میں کامل عدل اور مساوات کا درس دیتا ہے۔چنانچہ سورۃ المائدہ آیت نمبر 3 میں ہمیں ایک اور بہت ہی اہم راہنما اصول ملتا ہے۔اس میں یہ بیان ہے کہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان لوگوں سے بھی عدل وانصاف کا سلوک کیا جائے جو اپنی دشمنی اور نفرت میں تمام حدود پار کر گئے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ جہاں کہیں بھی اور جو کوئی بھی تمہیں نیکی اور بھلائی کی نصیحت کرے اسے قبول کرنا چاہیے اور جہاں کہیں بھی اور جو کوئی بھی تمہیں گناہ اور نا انصافی کی طرف بلائے تمہیں چاہیے کہ تم اس کو ر ڈ کر دو۔ایک سوال طبعا پیدا ہوتا ہے کہ اسلام جس عدل کا تقاضا کرتا ہے اس کا معیار کیا ہے۔سورۃ النسآء آیت نمبر 136 میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ خواہ تمہیں اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا اپنے والدین یا اپنے عزیز ترین رشتہ دار کے خلاف گواہی دینی پڑے تب بھی تمہیں انصاف اور سچائی کو قائم رکھنے کے لیے ایسا کرنا چاہیے۔طاقتور ممالک کو غریب اور کمزور ملکوں کے حقوق اپنے حقوق کی حفاظت کی کوشش کرتے ہوئے غصب نہیں کرنے چاہئیں۔نہ ہی غریب ممالک کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک روا رکھنا چاہیے۔دوسری طرف غریب اور کمزور ممالک کو نہیں چاہیے کہ وہ طاقتور اور امیر ممالک کو نقصان پہنچانے کے موقع کی تلاش میں رہیں بلکہ دونوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ انصاف کے اصولوں کی پوری پوری پابندی کریں۔در حقیقت مختلف ممالک کے مابین پر امن تعلقات قائم رکھنے کے لیے یہ ایک بہت ہی اہم بات ہے۔انصاف پر مبنی بین الاقوامی امن کے ایک اور تقاضا کا ذکر سورۃ الحجر آیت نمبر 89 میں کیا گیا ہے جہاں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی فریق کو نہیں چاہیے کہ وہ دوسروں کی دولت اور ان کے وسائل کو کبھی بھی حاسدانہ رنگ میں دیکھے۔اسی طرح کسی ملک کو نہیں چاہیے کہ وہ نا انصافی کرتے ہوئے دوسرے ممالک کے وسائل پر ان کی مدد کرنے کے جھوٹے عذر کا سہارا لے کر غاصبانہ قبضہ کرلے۔اسی طرح تکنیکی مہارت فراہم کرنے کی بنیاد پر حکومتوں کو نہیں چاہیے کہ وہ دوسری اقوام کے ساتھ غیر منصفانہ تجارتی معاملات یا معاہدات کر کے ناجائز فائدہ