عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 74
74 گا جو انصاف پر مبنی ہیں۔جماعت احمد یہ خالصتاً ایک مذہبی جماعت ہے۔ہم اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ موعود مسیح اور مصلح جس نے اس زمانہ میں دنیا کو اسلام کی حقیقی تعلیم سے منور کرنے کے لیے آنا تھا وہ ظاہر ہو چکا ہے۔ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی وہ موعود مسیح اور مصلح ہیں اس لیے ہم ان پر ایمان لے آئے ہیں۔آپ نے اپنے متبعین کو بار بار یہ تلقین فرمائی ہے کہ وہ اسلام کی اس حقیقی تعلیم پر جو قرآن پر مبنی ہے عمل پیرا ہوں اور اس کی اشاعت کریں۔چنانچہ میں جو کچھ بھی قیام امن اور منصفانہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالہ سے بیان کروں گا وہ قرآن کی تعلیم پر بنی ہو گا۔عالمی امن کے حصول کے لیے آپ سب با قاعدگی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور در حقیقت اس کے لیے بہت کوششیں بھی کرتے رہتے ہیں۔آپ اپنی ذہانت اور تخلیقی ذہن کی بدولت امن کے عظیم نظریات، منصوبے اور تصورات پیش کرتے ہیں۔لہذا اس موضوع پر دنیوی اور سیاسی نقطۂ نظر سے مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کی بجائے میری ساری توجہ اس امر پر مرکوز ہوگی کہ مذہب کس طرح قیام امن کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔اس مقصد کے لیے جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ میں قرآن کریم سے بعض بے حد اہم راہنما اُصول پیش کروں گا۔سیہ بہت اہم بات ہے جو ہمیشہ یادرکھنی چاہیے کہ انسانی علم اور عقل کامل نہیں ہے بلکہ یقیناً محدود ہے۔پس فیصلہ کرتے ہوئے یا سوچ بچار کرتے ہوئے اکثر ایسے محرکات ذہن میں داخل ہو جاتے ہیں جو فیصلہ میں بگاڑ پیدا کر دیتے ہیں اور انسان کو ایسے راستہ پر ڈال دیتے ہیں جہاں وہ اپنے حقوق کے لیے کوشش کر رہا ہوتا ہے۔اس کا نتیجہ بالآخر ایک غیر منصفانہ فیصلہ کی صورت میں نکلتا ہے لیکن خدا کا قانون ناقص نہیں ہے اس لیے اس میں کوئی ذاتی مفادات یا نا انصافی کے امکانات موجود نہیں ہیں۔یہ اس لیے ہے کہ خدا کو ہر حال اپنی مخلوق کی بھلائی اور بہود عزیز ہے اس لیے اس کا قانون کلیۂ انصاف پر مبنی ہے۔جس دن لوگ اس اہم حقیقت کو شناخت کرلیں گے اور اسے سمجھ لیں گے وہ دن ہو گا جب حقیقی اور دائی امن کی بنیاد رکھی جائے گی۔بصورت دیگر ہم یہ دیکھیں گے کہ قیام امن کے لیے مسلسل کوششیں تو ہورہی ہوں گی مگر یہ کوئی قابل قدر اور ٹھوس نتائج پیدا نہیں کر رہی ہوں گی۔جنگ عظیم اول کے اختتام کے بعد بعض ممالک کے راہنماؤں کی یہ خواہش تھی کہ مستقبل میں اچھے اور