عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 73
انصاف کی راہ۔قوموں کے مابین انصاف پر مبنی تعلقات بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مہمانان کرام! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔خطاب شروع کرنے سے پہلے میں آپ سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ وقت نکال کر میری معروضات کو سننے کے لیے یہاں تشریف لائے۔مجھ سے ایک ایسے موضوع پر خطاب کرنے کی درخواست کی گئی ہے جو بہت وسیع ہے اور اس کے کئی پہلو ہیں۔اس مختصر وقت میں ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔مجھے جو موضوع دیا گیا ہے وہ ہے عالمی امن کا قیام۔یقیناً یہ ایک اہم ترین اور بہت ضروری مسئلہ ہے جو آج دنیا کو در پیش ہے۔تاہم چونکہ وقت قلیل ہے اس لیے میں بہت اختصار سے قیام امن کے متعلق اسلامی نقطۂ نظر بیان کروں گا جو یہ ہے کہ امن بین الاقوامی تعلقات میں انصاف اور مساوات سے قائم ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ امن اور انصاف کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔یہ وہ اصول ہے جسے دنیا کے تمام باشعور اور دانا لوگ سمجھتے ہیں۔در حقیقت مفسدوں کے سوا کبھی بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کسی معاشرہ ، ملک یا دنیا میں عدل و انصاف قائم ہونے کے باوجود فساد ہوسکتا ہے۔تاہم ہمیں دنیا کے بہت سے حصوں میں امن کا فقدان اور فساد نظر آتا ہے۔یہ بدامنی اور فساد مختلف ممالک میں اندرونی طور پر بھی پایا جاتا ہے اور دیگر اقوام سے تعلقات کے لحاظ سے بیرونی طور پر بھی موجود ہے حالانکہ حکومتیں انصاف پر مبنی پالیسیاں بنانے کا دعوی کرتی ہیں۔باوجود اس کے کہ قیام امن کو بھی اپنا اولین مقصد قرار دیتے ہیں اس امر میں کوئی شک نہیں کہ بالعموم دنیا میں بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے اور نیچۂ فساد پھیل رہا ہے۔اس سے یہ یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں انصاف کے تقاضے پامال ہورہے ہیں۔چنانچہ اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ جب بھی اور جہاں کہیں بھی بے انصافی پائی جائے تو اس کا تدارک کیا جائے۔چنانچہ امام جماعت احمد یہ عالمگیر کی حیثیت سے میں امن کے حصول کے بعض راستوں کا ذکر کرنا چاہوں