عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 19

عالمی بحران پر اسلامی نقطۂ نظر 19 آج کا ایک بڑا مسئلہ اقتصادی بدحالی ہے جسے قرض کے بحران ( credit crunch) کا نام دیا جا رہا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ اس سلسلہ میں جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔اس سلسلہ میں قرآن کریم نے سود سے منع کر کے ہماری راہنمائی فرما دی ہے کیونکہ یہ ایک ایسی لعنت ہے جو عائلی، قومی اور عالمی امن کے لیے ایک خطرہ ہے۔ہمیں متنبہ کیا گیا ہے کہ سود خور کو ایک دن شیطان پاگل کر دے گا۔اس میں مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ وہ ایسی صورتحال سے بچیں۔فرمایا کہ سود کا لین دین ختم کر دو کیونکہ جو رو پیتم سود کے ذریعہ حاصل کرتے ہو وہ درحقیقت تمہاری دولت میں کسی اضافہ کا موجب نہیں ہوتا اگر چہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں دولت بڑھ رہی ہے۔ضرور ایک ایسا وقت آتا ہے جب اس کے حقیقی اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔قرآن کریم نے ہمیں سودی کاروبار کی اجازت نہیں دی ہے۔اور اس سلسلہ میں یہ کہہ کر مزید انتباہ کیا گیا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو یہ بات خدا تعالیٰ سے جنگ کے مترادف ہوگی۔یہ حقیقت حالیہ اقتصادی بحران سے بخوبی واضح ہو جاتی ہے۔شروع میں افراد جائیداد خریدنے کے لیے قرض لیتے تھے مگر اس کی ملکیت حاصل ہونے سے پہلے مقروض ہونے کی حالت میں مرجاتے تھے لیکن اب حکومتیں ہیں جو مقروض ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے پاگل پن کا شکار ہو چکی ہیں۔بڑی بڑی کمپنیاں دیوالیہ ہوگئی ہیں۔بعض بینک اور دیگر مالی ادارے بند ہو چکے ہیں یا انہیں مالی طور پر سہارا دیا گیا ہے۔اور یہ صورتحال ہر ملک میں خواہ وہ امیر ہے یا غریب نظر آ رہی ہے۔آپ اس بحران کے بارہ میں مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔لوگوں کا روپیہ جو بینکوں میں تھا وہ تباہ ہو گیا ہے۔اب حکومتیں ہی ہیں جو دیکھیں گی کہ کس طرح اور کس حد تک انہیں تحفظ دینا ہے مگر فی الوقت صورت حال یہ ہے کہ دُنیا کے اکثر ممالک میں گھروں کاروباری لوگوں اور سرکاری عمائدین کا تمام تر ذہنی سکون تباہ و برباد ہو چکا ہے۔کیا یہ صورتحال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور نہیں کرتی کہ دُنیا اُس منطقی نتیجہ کی طرف بڑھ رہی ہے جس کے بارہ میں ہمیں پہلے ہی سے انتباہ کر دیا گیا تھا۔خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ان حالات کا انجام کیا ہوگا؟