عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 18

نے اپنے اپنے میدان علم میں کمال حاصل کر لیا ہے۔دنیا کے بڑے تحقیقی مراکز میں انتہا درجہ کے ذہین لوگ مل کر مصروف کار ہیں۔ان حالات میں ہونا یہ چاہیے کہ لوگ اکٹھے ہو کر اس غلط طرز فکر کا خاتمہ کریں اور ماضی کی اُن غلطیوں کو دور کریں جن کے نتیجہ میں عداوتوں نے جنم لیا تھا اور جو خوفناک جنگوں پر منتج ہوئی تھیں۔خداداد ذہانت اور سائنسی ترقی انسانیت کی بہبود کے لیے استعمال ہونی چاہیے تھی اور ایسا جائز طریق وضع ہونا چاہیے تھا جس پر چل کر ایک دوسرے کے وسائل سے استفادہ کیا جا سکے۔اللہ تعالیٰ نے دُنیا کے ہر ملک کو قدرتی وسائل عطا فرمائے ہیں۔ان تمام وسائل کو اس رنگ میں بھر پور طریق پر استعمال کرنا چاہیے تھا کہ دنیا امن کا گہوارہ بن جاتی۔اللہ تعالی نے بہت سے ممالک کو مختلف فصلیں اگانے کے لیے بہترین آب و ہوا اور ماحول عطا کر رکھا ہے۔اگر زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کو صیح منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جاتا تو دنیا کی اقتصادی حالت مضبوط ہو جاتی اور کرہ ارض سے بھوک کا خاتمہ ہو جاتا۔جو ممالک معدنی وسائل رکھتے ہیں انہیں ترقی کرنے کا حق ملنا چاہیے اور مناسب قیمت پر آزاد تجارت کے مواقع ملنے چاہئیں۔مختلف ممالک کو ایک دوسرے کے وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہیے جس کا صحیح طریق یہی ہے اور یہی طریق خدا تعالیٰ کو پسند ہے۔خدا تعالی انبیاء کو مبعوث کرتا ہے تا کہ وہ ان راہوں کا پتہ دیں جن پر چل کر لوگ خدا کا قرب حاصل کریں مگر اس کے ساتھ ساتھ خدا تعالی یہ بھی فرماتا ہے کہ دین کے معاملہ میں مکمل آزادی ہے۔ہمارے عقاید کے مطابق موت کے بعد جزا سزا ہوگی مگر جب اُس کی مخلوق پر ظلم ہوتا ہے اور عدل وانصاف کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کے وضع کردہ نظام کے تابع قوانین قدرت کے ذریعہ اس دنیا میں ہی اس کے نتائج دیکھے جا سکتے ہیں۔ایسی بے انصافیوں کا شدید رد عمل لوگوں کی طرف سے بھی ہوتا ہے اور اس رد عمل کے صحیح یا غلط ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔دنیا کو فتح کرنے کا صحیح طریق یہ ہے کہ غریب اقوام کو وہ مقام دینے کی ہر کوشش کی جائے جو اُن کا حق ہے۔18