عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 247
عالمی راہنماؤں کو خطوط بسم اللہ الرحمن الرحیم 247 عزت مآب جناب صدر ریاست ہائے متحدہ روس کریملن 23۔الین کا سٹریٹ، ماسکو۔103132 روس۔محترم صدر صاحب! میں آپ کی خدمت میں جماعت احمدیہ مسلمہ کے سربراہ کی حیثیت سے یہ خط لکھ رہا ہوں۔دوصد چار ممالک میں پھیلی ہوئی یہ جماعت دنیا بھر کو امن کا گہوارہ بنانے کی خواہاں ہے۔موجودہ حالات کے پیش نظر میں اپنے خطبات اور خطابات میں بلا امتیاز ہر ایک کو خالق حقیقی کی طرف سے عاید کردہ ذمہ داریوں اور فرائض کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں۔افسوس کہ مجھے آپ سے براہِ راست مخاطب ہونے کا بھی موقع نہیں ملا۔تاہم شام کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور آپ کی قابل تحسین کوشش نے مجھے آپ کو یہ خط لکھنے پر آمادہ کیا جب آپ نے دنیا کو میدان جنگ میں کودنے کی بجائے باہمی بات چیت سے مسائل کو حل کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔کسی ملک کے خلاف جارحیت نہ صرف اُس خطہ میں جنگ کا باعث بن سکتی ہے بلکہ عالمی جنگ کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔اس حوالہ سے ایک مؤقر مغربی اخبار میں آپ کا حالیہ مضمون پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی جس میں آپ نے نشان دہی کی ہے کہ ایسا طرز عمل انتہائی خطرناک اور جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے والا ہو گا۔آپ کے اس واضح اور امن پسند مؤقف کی وجہ سے بڑی بڑی طاقتیں اس سے باز رہیں اور انہوں نے جذبہ خیر سگالی کے ساتھ سفارت کاری کے ذریعہ گفت و شنید کا راستہ اختیار کیا۔میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ آپ کے اس بر وقت قدم نے دنیا کو در پیش ایک بہت بڑی تباہی سے بچالیا ہے۔