عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 240 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 240

240 کے پیروکار کروڑوں کی تعداد میں دنیا بھر میں موجود ہیں۔ہم دُنیا کو باہمی محبت اور امن کے ساتھ جینے کا طریق سکھانے میں تن دہی سے مصروف ہیں۔اس مقصد کے حصول کے لیے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگوں کو متوجہ کرتا رہتا ہوں۔میں نے حال ہی میں اسرائیل کے وزیر اعظم ، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر اور دیگر عالمی سربراہان کو خطوط لکھے ہیں۔نیز اسی تعلق میں پوپ بینیڈکٹ XVI کو بھی پیغام بھجوا چکا ہوں۔ایک بہت بڑی مسلم قوم کے رُوحانی سربراہ کی حیثیت سے آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ اگر تمام مسلمان امت متحد ہو جائے اور مل جل کر کام کرے تو امن عالم کا قیام چنداں مشکل نہیں۔ہمیں کبھی بھی بلاوجہ کی دشمنیوں اور عداوتوں کو پروان نہیں چڑھانا چاہیے بلکہ قیام امن و آشتی کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔کسی کی دشمنی اور مخالفت کو کبھی بھی انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے دینا چاہیے۔قرآن کریم میں یہی تعلیم دی گئی ہے: ”اے ایمان دارو! تم انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے اللہ کے لیے ایستادہ ہو جاؤ۔اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہر گز اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کرو تم انصاف کرو وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ کا تقوی اختیار کرو۔جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے یقیناً آگاہ ہے۔“ (المائدہ:9) اللہ تعالی تمام امت مسلمہ اور مسلم حکومتوں کو میرا پیغام سمجھنے کی توفیق بخشے تا وہ امن کے قیام کی کوششوں میں اپنا مثبت کردار احسن طریق پر ادا کرنے کے قابل ہو جائیں۔چونکہ میں بھی رحمہ للعالمین کی اُمت کا ایک فرد ہوں اس لیے بنی نوع انسان سے محبت اور اُمت مسلمہ کے لیے ہمدردی نے مجھے ابھارا کہ میں آپ کو خط لکھوں۔اے خدا! تو مسلمان سربراہوں کو توفیق بخش کہ وہ میری بات سمجھیں اور امنِ عالم کے قیام میں پورے اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں ورنہ کسی ایک قوم کی جلد بازی با لا پرواہی دو ممالک کے درمیان خون ریز جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔پیش آمدہ جنگ کو محض دو ممالک کی جنگ سمجھنا ہماری خام خیالی ہوگی کیونکہ جنگ کے شعلے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔پس نوشتہ دیوار کو سمجھیں کہ اگر اب عالم گیر جنگ چھڑی تو وہ محض روایتی ہتھیاروں کی لڑائی نہیں ہو