عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 185
عالمی راہنماؤں کو خطوط 185 میری آپ سے عاجزانہ درخواست ہے کہ دنیا کی بڑی اور چھوٹی طاقتوں کو تیسری عالمی جنگ کے شعلے بھڑ کانے سے باز رکھنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں وقف کر دیں۔اگر ہم قیام امن کی کوششوں میں ناکام رہے تو یقیناً یہ جنگ ایشیا، یورپ اور امریکہ کے صرف غریب ممالک تک محدود نہیں رہے گی۔نیز ہماری آئندہ نسلیں اس کا خمیازہ بھگتیں گی جب ایٹمی جنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں اپانچ یا معذور بچے جنم لیں گے۔وہ آنے والی نسلیں اس قدر شدید عالمی تباہی کا باعث بننے والے اپنے آباء واجداد کو بھی معاف نہیں کریں گی۔یقیناً آج مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرنے کی بجائے ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی فکر کرنی چاہیے اور اس بات کے لیے کوشاں رہنا چاہیے کہ ان کے لیے روشن مستقبل چھوڑ کر جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور تمام عالمی لیڈروں کو یہ پیغام سمجھنے کی توفیق بخشے۔آپ کا خیر خواہ مرزا مسرور احمد خلیفة اصبح الخامس امام جماعت احمدیہ مسلمہ عالمگیر 08-03-2012