عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 161 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 161

161 عالمی راہنماؤں کو خطوط ہے وہ زمین کے وارث ہوں گے۔کچھ ہی دیر باقی ہے پھر شریر باقی نہیں رہیں گے تم انہیں تلاش کرو گے تو انہیں نہ پاؤ گے لیکن حلیم ملک کے وارث ہوں گے اور خوب اطمینان سے رہیں گے۔“ (زبور باب 37 آیت 1 تا 11 ) اسی طرح تو رات میں لکھا ہے: و تم اپنی ہتھیلی میں ایک ہی طرح کے دو ایسے بات نہ رکھنا کہ ایک بھاری ہو اور دوسرا ہلکا ہو۔تم اپنے گھر میں ایک ہی طرح کے دو پیمانے نہ رکھنا کہ ایک کم ماپ کا ہو اور دوسرا ز یادہ کا۔تمہارے اوزان اور پیمانے صحیح اور درست ہوں تا کہ اس ملک میں جسے خداوند تمہارا خدا تمہیں دے رہا ہے تمہاری عمر دراز ہو کیونکہ ایسے لوگ جو دھوکے سے کام لیتے ہیں خداوند تمہارے خدا کی نظر میں مکروہ ہیں۔“ استثنا باب 25 آیت 13 تا 16 ) پس عالمی راہنماؤں کو اور خصوصاً آپ کو دوسروں پر بہ زور باز وحکومت کرنے اور کمزوروں کو دبانے کا تاثر ختم کرنا چاہیے اور اس کے بالمقابل امن و انصاف کے قیام اور ترویج کی کوششوں میں مصروف ہو جانا چاہیے۔ایسا کرنے سے آپ خود بھی امن میں آجائیں گے ، آپ کو استحکام نصیب ہوگا اور دنیا میں بھی امن قائم ہو جائے گا۔میری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور عالمی راہنماؤں کو میرا پیغام سمجھنے کی توفیق بخشے۔خدا کرے کہ آپ اپنی حیثیت اور مقام کو سمجھیں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔آپ کا خیر خواہ مرزا مسرور احمد خلیفة المسح الخامس امام جماعت احمدیہ مسلمہ عالمگیر 26-02-2012