عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 153

عالمی راہنماؤں کو خطوط 153 کے باعث بغض و عداوت بڑھ رہی ہے اور دُنیا تباہی کے دہانہ پر پہنچ چکی ہے۔اگر وسیع پیمانہ پر تباہی پھیلانے والے یہ ہتھیار پھٹ جائیں تو آئندہ نسلیں اس غلطی پر ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی کہ ہم نے انہیں معذوری اور پانچ پن تحفہ میں دیا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ دنیا خالق اور اس کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہو جائے۔میرے نزدیک اس وقت دنیا کی ترقی پر توجہ دینے کی بجائے یہ زیادہ ضروری ہے کہ ہم دنیا کو اس تباہی سے بچانے کے لیے اپنی مساعی تیز تر کر دیں۔فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ بنی نوع انسان اپنے خالق کو پہنچا نہیں کیوں کہ صرف یہی ایک بات انسانیت کے تحفظ کی ضمانت ہے ورنہ دنیا بڑی تیزی کے ساتھ تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔اگر آج واقعی انسان قیام امن میں کامیاب ہونا چاہتا ہے تو دوسروں میں نقص تلاش کرنے کی بجائے اسے اپنے نفس کے شیطان پر قابو پانا چاہیے۔اپنی کوتاہیاں اور کمزوریاں دور کر کے انسان کو انصاف کا بہترین نمونہ بنا ہو گا۔میں دنیا کو بار بار توجہ دلاتا رہتا ہوں کہ ایک دوسرے کے ساتھ حد سے بڑھی ہوئی عداوتیں اور انسانی اقدار کی پامالی دنیا کو تباہی کی طرف لے جارہی ہیں۔آپ دنیا میں ایک معتبر مقام رکھتے ہیں اس لیے میں آپ سے ملتمس ہوں کہ باقی دنیا کو بھی آگاہ کریں کہ خدا کے قائم کردہ قدرتی توازن اور ہم آہنگی کی راہ میں رکاوٹ بن کر وہ بہت تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔اس پیغام کو پہلے سے بہت وسیع پیمانے پر اور بہت نمایاں کر کے پھیلانے کی ضرورت ہے۔دنیا کے تمام مذاہب کو مذہبی رواداری اور تمام لوگوں کو محبت، پیار اور بھائی چارہ کی رُوح پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔میں دعا گو ہوں کہ ہم سب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے دنیا کو امن اور پیار کا گہوارہ بنائیں اور اپنے خالق کو پہچاننے میں اپنا کردار ادا کریں۔ہماری دعا اور خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تباہی سے بچالے۔آپ کا خیر خواہ! مرزا مسرور احمد خلیفہ ایسیح الخامس امام جماعت احمدیہ مسلمہ عالمگیر 31-10-2011