عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 127 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 127

اسلام۔امن اور محبت کا مذہب 127 کے لیے رحمت و رافت کا ذریعہ ہے اور یوں انسانیت کے لیے امن کا باعث ہے۔اس آیت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امن کے اس پیغام کے جواب میں نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا انکار کیا گیا بلکہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمسخر اور حقارت آمیز سلوک کیا۔یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر دشمنی پر اتر آئے اور فتنہ وفساد پیدا کر دیا۔اس کے باوجود حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا سے یہی التجا کی کہ ”میں تو ان کے لیے سلامتی کا خواہاں ہوں لیکن یہ مجھے امن سے رہنے نہیں دیتے اور مجھے دکھ اور تکلیف پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔“ اس کے جواب میں اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں تسلی دی کہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں اس سے صرف نظر کر اور انہیں چھوڑ دے۔تمہارا واحد کام دنیا میں امن کا فروغ اور اس کا قیام ہے۔ان کی نفرتوں اور زیادتیوں کے جواب میں تم صرف یہ کہو کہ تم پر سلامتی ہو اور انہیں بتاؤ کہ تم ان کے لیے محض سلامتی کا پیغام لائے ہو۔پس حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری حیات طیبہ دنیا میں فروغ امن کے لیے وقف کر دی۔یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلیٰ نصب العین تھا۔یقیناً وہ دن آئے گا جب بنی نوع انسان کو یہ احساس ہوگا اور وہ سمجھ جائیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہا پسندی کی کوئی تعلیم نہیں لائے۔بنی نوع انسان کو یہ احساس بھی ہو جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اور صرف امن، محبت اور ہمدردی کا پیغام لائے ہیں۔مزید یہ کہ اگر اس عظیم نبی کے پیروکار بھی ان زیادتیوں اور مظالم کا اسی طرح پیار کے انداز میں جواب دیں تو بلا شبہ ایک دن آئے گا کہ اسلام کی اس اعلی تعلیم پر اعتراض اٹھانے والے اس تعلیم کی صداقت اور حسن کے قائل ہو جائیں گے۔جماعت احمدیہ مسلمہ انہی تعلیمات پر کار بند ہے اور انہی کے مطابق زندگی بسر کر رہی ہے۔یہی وہ ہم آہنگی ، رواداری اور ہمدردی کی تعلیم ہے جسے دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لیے ہم مصروف عمل ہیں۔ہم احمدی مسلمان ہی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس تاریخی ، بے نظیر اور لاثانی نرمی ، محبت اور شفقت کی تقلید کرتے ہیں کہ کئی سالوں پر محیط سخت تکلیف اور کرب ناک مظالم برداشت کرنے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فاتحانہ شان کے ساتھ واپس تشریف لائے۔کئی سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کو خوراک اور پانی جیسی انتہائی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کر دیا گیا اور کئی کئی دن تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاقے کاٹے ، آپ