عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 112

112 پابندی کرنی چاہیے۔اس میں وہ تمام وعدے شامل ہیں جو لوگ آپس میں کرتے ہیں۔اسلام یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ ایک مسلمان اُس عہد وفاداری کو نبھائے جو وہ اپنے ملک سے ایک شہری کے طور پر باندھتا ہے۔اس بارہ میں میں پہلے بات کر چکا ہوں۔یہ چند باتیں ہیں جو میں نے آپ کے سامنے یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کی ہیں کہ اسلام کس قدر ہمدردی اور محبت کا مذہب ہے۔یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ اسلام کے مخالفین یا وہ لوگ جو اس کی تعلیمات سے پوری طرح آگاہ نہیں بڑی شدت سے اس پر بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا آج کے دور میں جماعت احمدیہ مسلمہ اسلام کا حقیقی پیغام پھیلا رہی ہے اور اس کا عملی اظہار بھی کر رہی ہے۔ان باتوں کی روشنی میں میں ان لوگوں سے جو اسلام پر ایک مسلم اقلیت کے طر یہ عمل کو دیکھ کر الزامات لگاتے ہیں درخواست کروں گا کہ وہ ضرور ایسے لوگوں پر اعتراض کریں اور ان پر گرفت کریں لیکن انہیں ہرگز زیب نہیں دیتا کہ یہ غیر منصفانہ مثالیں پیش کر کے اسلام کی حقیقی تعلیمات کی تخفیف کریں اور انہیں بدنام کریں۔آپ ہرگز اسلامی تعلیمات کو جرمنی یا کسی اور ملک کے لیے خطرہ خیال نہ کریں۔آپ ہر گز فکر نہ کریں کہ آیا ایک مسلمان جرمن معاشرہ کا حصہ بن سکتا ہے یا نہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا اسلام کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کو تمام اچھائیاں اپنانے کی تعلیم دیتا ہے۔لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان کسی بھی معاشرہ کا حصہ بن کر اس میں رہ سکتے ہیں۔اگر کوئی شخص اس کے برخلاف عمل کرتا ہے تو وہ محض نام کا مسلمان ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات پر ہرگز عمل پیرا نہیں۔پس کسی مسلمان سے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں تہذیب ، شائستگی اور نیکی کی تعلیمات کے خلاف کرنے کی یقیناً توقع نہیں رکھی جانی چاہیے مگر ایسے معاملات کا کسی معاشرہ میں جذب ہونے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ مذہبی آزادی سے متعلق ہے جس پر نہ صرف مسلمان بلکہ تمام مہذب اور دیانتدار لوگ متفق ہیں اور اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور علی الاعلان کہتے ہیں کہ کسی حکومت یا معاشرہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ لوگوں کے ذاتی مذہبی معاملات میں مداخلت کرے۔میری دُعا ہے کہ جرمنی اور در حقیقت ہر ملک جو مختلف قومیتوں اور ثقافتوں کے حامل لوگوں کا گھر بن چکا ہے، ایک دوسرے کے احساسات و جذبات کے لیے عزت اور حمل کے اعلیٰ ترین معیار کا مظاہرہ کرے۔اس بیان فرمودہ طریق سے وہ باہمی محبت، پیار اور امن کو فروغ دینے والوں کا علمبردار بن سکتا