عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 107
کیا مسلمان مغربی معاشرہ میں ضم ہو سکتے ہیں؟ 107 کا ایک مسلم شہری کو کیا کرنا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں اسلام نے ایک سنہری اصول پیش کیا ہے جو یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو ظلم و استبداد کا مد و معاون نہیں ہونا چاہیے۔لہذا اگر ظلم کوئی مسلمان ملک کر رہا ہے تو اسے روکا جانا چاہیے اور اگر ظلم کوئی عیسائی ملک کر رہا ہے تو اسے بھی روکا جانا چاہیے۔ایک عام شہری کس طرح اپنے ملک کو ظلم اور نا انصافی سے روک سکتا ہے۔اس کا جواب بہت آسان ہے۔آج کے دور میں ساری مغربی دُنیا میں جمہوریت کا دور دورہ ہے۔اگر ایک منصف مزاج شہری یہ دیکھتا ہے کہ اس کے ملک کی حکومت ظلم پر عمل پیرا ہے تو اس کو اس کی مخالفت میں آواز اٹھانی چاہیے اور اپنے ملک کوسیدھے راستہ پر لانا چاہیے بلکہ ایسے لوگ ایک گروہ کے طور پر بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔اگر ایک شہری یہ دیکھتا ہے کہ اس کا ملک کسی دوسرے ملک کی خود مختاری کو ختم کرنا چاہتا ہے یا کر رہا ہے تو اسے اپنی حکومت کو تنبیہ کرنی چاہیے اور اپنے تحفظات کو سامنے لانا چاہیے۔اپنے مؤقف کے لیے کھڑا ہونا اور پر امن طور پر اپنے تحفظات پیش کرنا سرکشی اور بغاوت نہیں۔در حقیقت یہ اپنے ملک سے حقیقی محبت کا اظہار ہے۔ایک منصف مزاج شہری بین الاقوامی طور پر دنیا میں اپنے ملک کی رسوائی اور بدنامی برداشت نہیں کر سکتا۔لہذا اپنے ملک کو خبر دار کر کے وہ اپنی حُبُّ الوطنی اور وفاداری کا اظہار کرتا ہے۔جہاں تک دُنیا اور بین الاقوامی اداروں کا تعلق ہے۔اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ جہاں کہیں بھی کسی ملک پر ظالمانہ حملہ ہو دوسرے ممالک کو اکٹھا ہو کر ظالم کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اگر ظالم قوم ہوش میں آ جائے اور ظلم سے باز آ جائے تو بدلہ میں یا موقع سے فائدہ اُٹھانے کے لیے اس قوم پر ظالمانہ سزائیں اور غیر منصفانہ فیصلے مسلط نہیں کرنے چاہیے۔اس لیے اسلام تمام ممکنہ حالات کا حل پیش کرتا ہے اور اس کی تعلیمات کا لب لباب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ امن کو فروغ دے۔حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیقی مسلمان کی تعریف یہ کی ہے کہ ایسا انسان جس کے ہاتھ اور زبان سے امن پسند لوگ محفوظ رہیں۔جیسا کہ میں نے کہا اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان کو ہرگز ظلم او استبداد کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔یہی وہ خوبصورت اور پر حکمت تعلیم ہے جو ایک حقیقی مسلمان کی جس کسی بھی ملک میں وہ رہتا ہو، ایک باعزت مقام حاصل کرنے کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔کوئی شک نہیں کہ تمام سعید فطرت اور شائستہ لوگ یہ چاہیں گے کہ ایسے پر امن اور ذمہ دار افرادان کے معاشرہ میں موجود ہوں۔