عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 96

96 96 جواب نہیں دے سکتا۔جو بات ہمیں معلوم ہے وہ یہ ہے کہ دُنیا کا امن بہر حال تباہ ہو جائے گا۔یہ بات بھی واضح رہے کہ میں کسی ایک ملک کے حق میں بات نہیں کر رہا۔جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہر قسم کا ظلم و ستم، جہاں کہیں بھی ہو، قطع نظر اس کے کہ اس ظلم کا ارتکاب فلسطینیوں کی طرف سے ہویا اسرائیلیوں کی طرف سے یا دنیا کے کسی بھی ملک کی جانب سے ، ہر حال میں اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔مظالم کو ختم ہونا چاہیے کیونکہ اگر انہیں پھیلنے دیا گیا تو نفرت کے شعلے لاز ما تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے اور پھر یہ نفرت اس حد تک بڑھ جائے گی کہ دنیا حالیہ معاشی بحران سے پیدا ہونے والے مسائل کو بھی بھول جائے گی اور اس کی جگہ پہلے سے بھی بڑھ کر ہولناک صورتحال کا سامنا ہو گا۔اس قدر جانیں ضائع ہوں گی کہ ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔پس یوروپین ممالک ، جو دوسری جنگ عظیم میں بڑے نقصان دیکھ چکے ہیں، ان کا فرض ہے کہ وہ ماضی کے اپنے تجربہ سے سبق حاصل کریں اور دنیا کو تباہی سے بچائیں۔ایسا کرنے کے لیے انہیں انصاف کے تقاضے پورے کرنا ہوں گے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔اسلام اس بات پر بہت زور دیتا ہے کہ ہمیشہ کھرا اور منصفانہ رویہ اختیار کیا جائے۔اسلام سکھاتا ہے کہ کسی فریق کو ترجیح دیتے ہوئے اس کا ناجائز ساتھ نہ دیا جائے۔ہونا یہ چاہیے کہ زیادتی کرنے والے کو معلوم ہو کہ اگر وہ کسی ملک سے نا انصافی کرنے کی کوشش کرے گا تو قطع نظر اس کے کہ اس کا کیا مقام اور رتبہ ہے، عالمی برادری اسے ایسا ہر گز نہ کرنے دے گی۔اگر اقوام متحدہ کے ممبر ممالک، وہ ممالک جو یورپی یونین سے مستفید ہوتے ہیں اور وہ ممالک جو بڑی طاقتوں کے زیر اثر ہیں اور غیر ترقی یافتہ بھی ، اس اصول کو اختیار کرلیں تو صرف اسی صورت میں امن قائم ہوسکتا ہے۔مزید یہ کہ اگر صرف وہ ممالک جو اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھتے ہیں اس بات کو سمجھ جائیں کہ ان سے بھی ان کے اعمال کا مواخذہ کیا جائے گا تو حقیقی طور پر انصاف قائم ہوسکتا ہے۔در حقیقت میں اس سے ایک قدم اور آگے جاؤں گا کہ ویٹو پاور کا اختیار کسی بھی صورت امن قائم نہیں کرسکتا کیونکہ اس کے مطابق واضح طور پر تمام ممالک برابری کی سطح پر نہیں ہیں۔یہ بات میں نے سال کے آغاز میں امریکہ کے اہم راہنماؤں اور پالیسی سازوں سے Capital Hill میں خطاب کرتے ہوئے بھی کہی تھی۔