عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 94 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 94

94 اور خوبصورت اصول کو سننے کے بعد بھی کوئی اعتراض اسلام پر اُٹھ سکتا ہے؟ یقینا نہیں۔اسلام یہ سکھاتا ہے کہ اپنی زبان اور ہاتھ سے نا انصافی اور نفرت کا پر چار کرنے والے ہی قابل مواخذہ ہیں۔چنانچہ مقامی سطح سے لے کر عالمی سطح تک اگر تمام فریق اس سنہری اصول کی پابندی کرنے لگیں تو ہم دیکھیں گے کہ کبھی بھی مذہبی فساد پیدا نہ ہوگا اور کبھی بھی سیاسی مسائل پیدا نہ ہوں گے اور نہ ہی لالچ اور اقتدار کی ہوس کے باعث فساد پیدا ہو گا۔اگر اسلام کے یہ بچے اصول اپنا لیے جائیں تو ممالک میں عوام الناس ایک دوسرے کے حقوق اور جذبات کا خیال رکھیں گے ، حکومتیں تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کریں گی اور عالمی سطح پر ہر قوم کی ہمدردی اور محبت کے جذبہ کے تحت ایک دوسرے سے مل کر کام کرے گی۔دیر پا امن کے قیام کے لیے اسلام کا ایک کلیدی اصول یہ بھی ہے کہ کوئی فریق کسی بھی طور پر فخر اور تکبر کا اظہار ہرگز نہ کرے اور آنحضرت ﷺ نے عملی طور پر بڑے عمدہ انداز میں ایسا کر کے بھی دکھا دیا جب آپ ﷺ نے وہ مشہور کلمات ادا کیے کہ کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت ہے۔نہ ہی یوروپین قوم دیگر قوموں سے اعلیٰ یا افضل ہے اور نہ ہی افریقن ، ایشین یا دُنیا کے کسی بھی علاقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ کسی دوسرے سے افضل ہیں۔قومیتوں، رنگوں اور نسلوں کا اختلاف صرف اور صرف شناخت اور پہچان کے لیے ہے۔سچ تو یہ ہے کہ جدید دنیا میں ہم سب ایک دوسرے پر انحصار کر رہے ہیں۔یہاں تک کہ آج کی عالمی طاقتیں یورپ اور امریکہ وغیرہ بھی دوسروں سے بالکل کٹ کر گزارہ نہیں کر سکتیں۔افریقن ممالک بھی کسی طور دیگر ممالک سے الگ اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتے اور نہ ہی کسی قسم کی ترقی کی امید کر سکتے ہیں اور یہی حال ایشیائی ممالک یا دُنیا کے کسی بھی حصہ سے تعلق رکھنے والوں کا ہے۔مثال کے طور پر اگر آپ اپنی معیشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو لازمی طور پر عالمی تجارت میں حصہ لینا ہوگا۔اس بات کی واضح مثال کہ کس طرح دُنیا با ہم ایک دوسرے سے منسلک ہے، یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے یورپی معاشی بحران یا عالمی معاشی بحران نے دنیا کے کم و بیش ہر ملک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔مزید یہ کہ مختلف ممالک کا سائنس کے میدان میں ترقی کرنا یا دیگر شعبوں میں مہارت حاصل کرنا اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ باہم تعاون کریں اور ایک دوسرے کی مدد کریں۔