عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 41

ایٹمی جنگ کے تباہ کن نتائج اور کامل انصاف کی اشد ضرورت برتری اور تسلط کو قائم رکھنے کے لئے اپنی تمام کوششیں صرف کر رہی ہیں اور اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی بھی حربہ اور ہتھکنڈا استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔اس صورت حال میں ہم دیکھتے ہیں کہ نہ تو جماعت احمد یہ اور نہ ہی آپ میں سے اکثریت، جو عوام کے نمائندہ ہیں، یہ طاقت اور اختیار رکھتے ہیں کہ مثبت تبدیلی لانے کے لیے کوئی پالیسی بناسکیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی حکومتی طاقت یا عہدہ نہیں ہے۔در حقیقت میں تو یہاں تک کہوں گا کہ وہ سیاسی شخصیات جن سے ہمارے دوستانہ مراسم ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو ہماری باتوں سے مکمل اتفاق کرتے ہیں وہ بھی جب با اقتدار حلقوں میں ہوتے ہیں تو آواز بلند کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے یا ان کی آواز میں دبا دی جاتی ہیں اور انہیں اپنی رائے پیش کرنے سے روکا جاتا ہے۔اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ پارٹی پالیسی اپنانے پر مجبور ہوتے ہیں یا شاید وہ اپنے سیاسی حلیفوں یا دیگر عالمی قوتوں کے دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس کے باوجود ہم جو ہر سال اس امن کا نفرنس میں شامل ہوتے ہیں۔بلاشک وشبہ قیام امن کی خواہش رکھتے ہیں اور یقیناً ہم اپنی آراء اور جذبات کا اظہار کرتے ہیں کہ محبت، ہمدردی اور بھائی چارہ کو تمام مذاہب اقوام اور نسلوں اور تمام لوگوں میں قائم کرنا چاہیے۔بد قسمتی سے ہم اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں بے بس ہیں۔ان نتائج کے حصول کے لیے جن کی ہم خواہش رکھتے ہیں نہ تو ہمارے پاس اختیارات ہیں اور نہ ہی ذرائع۔مجھے یاد ہے کہ چند سال قبل اسی ہال میں ہماری امن کا نفرنس کے دوران میں نے ایک تقریر میں دنیا میں قیام امن کے طریق اور ذرائع پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی اور میں نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ اقوام متحدہ کو کس طرح کام کرنا چاہیے۔بعد میں ہمارے بہت ہی محترم دوست لا ر ڈارک ایو بری نے کہا کہ یہ خطاب تو اقوام متحدہ میں سنا جانا چاہیے تھا۔یہ اُن کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ انہوں نے بلند حوصلگی اور محبت سے اس بات کا اظہار کیا۔بہر حال میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ محض تقاریر اور خطابات کر لینا اور سن لینا کافی نہیں ہے اور صرف اس کے ساتھ امن قائم نہیں ہو سکتا۔دراصل اس اہم مقصد کے حصول کی بنیادی شرط تمام معاملات میں مکمل عدل و انصاف ہے۔قرآن کریم کی سورۃ نمبر 4 آیت 136 میں ہمیں اس بارہ میں ایک سنہری اُصول اور سبق دیا گیا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں خواہ آپ کو اپنے خلاف، اپنے والدین کے خلاف، اپنے دوستوں اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی گواہی کیوں نہ دینی پڑے۔یہ حقیقی انصاف ہے جس میں اجتماعی مفاد کی خاطر ذاتی 41