عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 31
وطن سے محبت کے متعلق اسلامی تعلیمات ہے تو وہ صرف اس حد تک کرنے چاہئیں کہ ان سے ملک یا معیشت کو نقصان نہ پہنچے۔ایک اور سوال جواکثر پیدا ہوتا ہے یہ ہے کہ کیا مسلمان یورپین ممالک کی افواج میں بھرتی ہو سکتے ہیں اور اگر بھرتی ہو سکتے ہیں تو کیا وہ ان ممالک کی طرف سے مسلمان ممالک پر فوجی حملہ میں حصہ لے سکتے ہیں؟ اسلام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو ظلم کے کاموں میں مدد نہیں کرنی چاہیے۔ہر مسلمان کو یہ بنیادی حکم ہمیشہ اپنے ذہن میں مستحضر رکھنا چاہیے۔جب کسی مسلمان ملک پر اس لیے حملہ کیا جائے کہ اس نے خود پہلے زیادتی اور نا انصافی سے کام لیا تھا اور جارحیت میں پہل کی تھی تب اس طرح کے حالات میں قرآن مسلمان حکومتوں کو نصیحت کرتا ہے کہ انہیں ظالم کا ہاتھ روکنا چاہیے۔یعنی انہیں چاہیے کہ ظلم کا سد باب کر کے قیام امن کی کوشش کریں۔پس اس طرح کے حالات میں کوئی قدم اٹھانے کی اجازت ہے۔تاہم جب زیادتی کرنے والا ملک خود اپنی اصلاح کرلے اور امن کی طرف آ جائے تو پھر اس ملک یا اس کے لوگوں سے کوئی زیادتی نہیں کرنی چاہیے یا جھوٹے بہانے اور عذر بنا کر انہیں زیر نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں دوبارہ حسب معمول آزادی اور خود مختاری دے دینی چاہیے۔فوج کشی قیام امن کی خاطر ہونی چاہیے نہ کہ اپنے مخصوص مفادات کی تکمیل کے لیے۔اسلام بلا تفریق مسلمان یا غیر مسلمان تمام ممالک کو ظلم اور زیادتی سے روکنے کا حق دیتا ہے۔لہذا اگر ضرورت پیش آئے تو غیر مسلمان ممالک ان حقیقی مقاصد کے حصول کے لیے مسلمان ممالک پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ان غیر مسلمان ممالک کے مسلمانوں کو اجازت ہے کہ وہ اپنے ممالک کی افواج میں شامل ہو کر دوسرے ملک کو ظلم سے روکیں۔جہاں ایسے حالات کا سامنا ہوتو مسلمان فوجی خواهہ وہ کسی بھی مغربی ملک کی فوج میں شامل ہوں انہیں احکام کی تعمیل کرنا ہوگی اور ضرورت پڑنے پر قیام امن کی خاطر جنگ بھی کرنا ہوگی۔اگر ایک ملک کی فوج ناجائز طور پر کسی دوسرے ملک پر حملہ کا ارادہ کرتی ہے اور ظالم بن جاتی ہے تو مسلمان کو اختیار ہے کہ وہ فوج کو چھوڑ دے کیونکہ اس صورت میں وہ ظلم کا ساتھ دے رہا ہو گا۔ایسا فیصلہ کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک سے بے وفائی کر رہا ہے۔در حقیقت اس طرح کے حالات میں اس کی اپنے وطن سے وفاداری کا تقاضا ہو گا کہ وہ ایسا قدم اُٹھائے اور اپنی حکومت کو مشورہ دے کہ وہ خود کو اُس گڑھے میں گرنے سے بچائیں جس میں نا انصاف اور ظالم حکومتیں اور قو میں گرتی ہیں۔اگر فوج میں شمولیت لازم ہو اور اسے چھوڑنے کی کوئی صورت نہ ہو اور اس شخص کا ضمیر بوجھل ہو تو اسے وہ ملک چھوڑ دینا چاہیے 31