عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 27
27 وطن سے محبت کے متعلق اسلامی تعلیمات نے خود یہ تعلیم دی ہے کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔لہذا اسلام اپنے ہر پیروکار سے مخلصانہ حب الوطنی کا تقاضا کرتاہے۔خدا اور اسلام سے کچی محبت کرنے کے لیے کسی بھی شخص کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے وطن سے محبت کرے۔لہذا یہ بالکل واضح ہے کہ کسی شخص کی خدا سے محبت اور وطن سے محبت کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں ہو سکتا۔چونکہ وطن سے محبت کو اسلام کا ایک رکن بنادیا گیا ہے اس لیے یہ واضح ہے کہ ایک مسلمان کو اپنے وطن سے وفاداری کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے کیونکہ یہ خدا سے ملنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔اس لیے یہ ناممکن ہے کہ ایک حقیقی مسلمان کی خدا سے محبت ، اس کی وطن سے سچی محبت اور وفاداری کی راہ میں کبھی رکاوٹ کا باعث بنے۔بدقسمتی سے بعض ممالک میں مذہبی حقوق یا تو محدود کر دیئے گئے ہیں یا مکمل طور پر انہیں دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔اس لیے یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں اپنے ملک میں مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔کیا وہ پھر بھی قوم اور وطن سے محبت اور وفاداری کا تعلق قائم رکھ سکتے ہیں؟ انتہائی افسوس کے ساتھ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پاکستان میں ایسے حالات ہیں جہاں حکومت نے ہماری جماعت کے خلاف قانون سازی کر رکھی ہے اور احمدیت کی مخالفت میں ان قوانین کو عملاً لاگو کیا گیا ہے۔پس پاکستان میں تمام احمدی مسلمانوں کو قانونا غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔وہ خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے۔پاکستان میں احمدیوں پر مسلمانوں کی طرح عبادت کرنے اور اسلامی روایات کے مطابق عمل کرنے کی جس سے ان کے مسلمان ہونے کا اظہار ہوتا ہو، پابندی ہے۔اس طرح خود حکومت پاکستان نے ہماری جماعت کے افراد کو عبادت کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔اس تناظر میں قدرتی طور پر یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حالات میں کیا احمدی مسلمان حکومت وقت کے قوانین کی پاسداری کر سکتے ہیں؟ اپنے وطن سے وفاداری کا اظہار کر سکتے ہیں؟ واضح ہو کہ جہاں ایسی انتہائی صورت پیدا ہو جائے وہاں ملکی قانون اور وطن سے محبت دو مختلف چیزیں بن جاتی ہیں۔احمدی مسلمان کا ایمان ہے کہ مذہب کے متعلق فیصلہ ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے اور یہ کہ مذہبی معاملات میں کوئی جبر تر و انہیں رکھا جا سکتا۔پس اس بنیادی حق میں قانون کی مداخلت بلاشبہ انتہائی ظلم اور زیادتی کی بات ہے۔کسی حکومت کی طرف سے عرصہ دراز سے مسلسل لگائی جانے والی پابندیوں کی دنیا کی بڑی اکثریت مذمت کرتی ہے۔