عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 248 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 248

248 میں آپ کے اس نقطہ نظر کی بھر پور تائید کرتا ہوں کہ اگر مختلف ممالک آزادانہ طور پر اپنی مرضی کے فیصلے کرنا شروع کر دیں تو پھر اقوام متحدہ بھی لیگ آف نیشنز جیسے حالات کا شکار ہوکر یکسر نا کام ہو جائے گی۔جنگ کے یقینی شعلے بھڑک اُٹھے تھے لیکن خدا کا شکر ہے کہ یہ اب کسی حد تک ماند پڑ گئے ہیں۔اللہ کرے کہ ان مثبت اقدام کی وجہ سے جنگ کے خطرات ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جائیں۔خدا کرے کہ بڑی طاقتیں صرف ویٹو کا حق استعمال کرنے کی بجائے چھوٹی اقوام کے حقوق بھی حفاظت اور احترام کے ساتھ ادا کرنے والی ہوں۔بہر حال آپ کی قیامِ امن کی کوششوں نے مجھے ترغیب دلائی کہ میں آپ کو خط لکھ کر آپ کا شکر یہ ادا کروں۔میں دعا کرتا ہوں کہ آپ کی یہ کوشش عارضی ثابت نہ ہو بلکہ مجھے امید ہے اور میں آپ کے لیے دُعا گو ہوں کہ آپ ہمیشہ امن قائم کرنے کی کوششوں میں لگے رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس مقصد میں کامیابی عطا فرماتا رہے۔آمین امنِ عالم کی خاطر جب بھی مجھے موقع ملتا ہے میں لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا رہتا ہوں کہ امن انصاف کے ذریعہ سے قائم ہو سکتا ہے۔میرے کچھ خطابات کتابی صورت میں بعنوان ” شائع ہو چکے ہیں۔اس کتاب کا ایک نسخہ میں اس خط کے ساتھ آپ کی خدمت میں بھجوا رہا ہوں۔دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ۔مرزا مسرور احمد خلیفة المسح الخامس امام جماعت احمدیہ مسلمہ عالمگیر 18-09-2013