عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 234
234 یہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور ملکہ کی فیاض فرماں روائی میں وہ ایک پُر امن زندگی بسر کر رہے ہیں جس میں انہیں انصاف اور مذہبی آزادی حاصل ہے۔اس دریادلی پر میں ایک بار پھر ملکہ عالیہ کانہ دل سے شکر گزار ہوں۔میں اپنے خط کو ملکہ عالیہ کے لیے اس دُعا پر ختم کرتا ہوں جو حضرت بانی سلسلہ نے ملکہ وکٹوریہ کے لیے کی تھی: ”اے قادر وکریم اپنے فضل سے ہماری ملکہ معظمہ کو خوش رکھ جیسا کہ ہم اس کے سایہ عاطفت کے نیچے خوش ہیں اور اس سے نیکی کر جیسا کہ ہم اس کی نیکیوں اور احسانوں کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔“ میری یہ بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ملکہ عالیہ کی اس طور سے راہنمائی فرمائے جس سے وہ راضی ہو جائے۔اللہ تعالی ملکہ عالیہ کی نسل کی بھی راہنمائی کرے کہ وہ سچ پر قائم ہو جائیں اور دوسروں کے حقوق کی طرف راہنمائی کریں۔خدا کرے کہ انصاف اور آزادی جیسی خوبیاں سلطنتِ برطانیہ کا طرہ امتیاز رہیں۔اس نہایت پُر مسرت موقع پر میں ایک بار پھر ملکہ عالیہ کو تہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔میں دعا گو ہوں کہ ہم سب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے دُنیا کو امن اور پیار کا گہوارہ بنائیں اور اپنے خالق کو پہچاننے میں اپنا کردار ادا کریں۔ہماری دُعا اور خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تباہی سے بچالے۔آپ کا خیر خواہ مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس امام جماعت احمدیہ مسلمہ عالمگیر 19-04-2012