عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 224 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 224

224 لیکن انصاف کے تقاضے پورے نہ کیے گئے جس کا نتیجہ دوسری عالمی جنگ کی صورت میں نکلا جو ایٹم بم کے استعمال پر منتج ہوئی۔ازاں بعد انسانی حقوق کی حفاظت اور عالمی امن کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ قائم کر کے سمجھ لیا گیا کہ ہم نے اسباب جنگ کا ازالہ کر لیا ہے لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔متعدد چھوٹے چھوٹے ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہو چکے ہیں اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض چھوٹی ایٹمی طاقتیں نہ صرف غیر ذمہ دار ہیں بلکہ ان ہتھیاروں کی تباہ کاریوں سے نابلد بھی ہیں۔آج کے دور میں یہ اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ اگر ایٹمی ہتھیار استعمال ہوئے تو ہر طرف فوری طور پر تباہی اور بربادی ہی بربادی ہوگی اور وہ دن قیامت کا نظارہ ہو گا۔جو ہتھیار آج مہیا ہیں وہ اس حد تک مہلک ہیں کہ نسلاً بعد نسل انسانی اولادیں شدید جینیاتی اور جسمانی نقائص لے کر جنم لیں گی۔جاپان میں جہاں ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا، سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی اس کے اثرات نومولود بچوں پر دیکھے جاسکتے ہیں۔میری عاجزانہ درخواست ہے کہ اپنی تمام تر کوششیں صرف کر کے مسلم اور غیر مسلم دنیا کے مابین پنپتی ہوئی عداوت اور بداعتمادی کو مٹا دیں۔چند یورپی ممالک کو اسلامی تعلیم اور روایات کے بارہ میں شدید تحفظات ہیں اور وہاں ان پر بعض قدغنیں بھی لگائی جا رہی ہیں جبکہ بعض دوسری اقوام ایسا کرنے کا سوچ رہی ہیں۔بعض شدت پسند نام نہاد مسلمانوں کے دلوں میں اہلِ مغرب کے خلاف پہلے سے موجود عداوت انہیں کسی نامناسب رد عمل کی طرف لے جاسکتی ہے جس سے مزید مذہبی عدم برداشت اور اختلافات پیدا ہوں گے۔اسلام تو ایک امن پسند مذہب ہے جو ہمیں ایک غلطی کے ازالہ کے لیے دوسری غلطی کرنے کی تعلیم نہیں دیتا۔جماعت احمد یہ مسلمہ ای اصول پر کار بند ہے اور تمام مسائل کے پر امن حل پر یقین رکھتی ہے۔نہایت درجہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کی ایک معمولی اقلیت اسلام کی تصویر کو کلیۂ مسخ کر کے پیش کر رہی ہے اور اپنے بگڑے ہوئے عقائد پر قائم ہے۔رحمۃ للعالمین حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کے صدقہ میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ اسے حقیقی اسلام نہ سمجھیں اور نہ ہی ایسے بھٹکے ہوئے لوگوں کے ظالمانہ کردار کو بہانہ بنا کر امن پسند مسلم اکثریت کے جذبات مجروح کریں۔حال ہی میں ایک بے رحم اور بے حس انسان نے جنوبی فرانس میں بغیر کسی وجہ کے فائرنگ کر کے کچھ فرانسیسی فوجی جوان ہلاک کر دیئے ہیں اور چند دن